رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں تازہ جھڑپیں: امن منصوبے کی دھجیاں اڑا دی گئیں


اقوام متحدہ کے پیغام میں کہا گیا تھا کہ تشدد کی کارروائیاں بند کی جائیں اور سیاسی مکالمہ جاری کیا جائے

جمعرات کے روز پورا شام تازہ جھڑپوں کی زد میں رہا، جس سےایک ہی روز قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حکومت اور مخالفین سے مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے ایلچی کی طرف سے پیش کیے گئے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے بیان میں حکومت شام کو ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ اختلاف رائے کو دبانے کی خاطر کی جانے والی پُر تشدد کارروائی بند کی جائے اور اپوزیشن کے ساتھ ہلاکت خیز تنازع کو ختم کرنے کے لیے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

جمعرات کو ملائیشیا میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر بان نے کہا کہ سلامتی کونسل کا پیغام ’غیر مبہم‘ ہے۔

اقوام متحدہ کے پیغام میں کہا گیا تھا کہ تشدد کی کارروائیاں بند کی جائیں اور سیاسی مکالمہ جاری کیا جائے، یعنی مسئلے کے حل کے لیےطرفین کے درمیان سیاسی مذاکرات ہوں، ایک ایسی بات چیت جس میں شام کے عوام کی امنگوں کے مطابق آگے بڑھا جائے اور انسانی بنیادوں پر رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کونسل نے بدھ کے روز مبینہ’ صدارتی بیان‘ منظور کیا جِس میں شام کے خلاف واضح نہ کیے گئے اقدام لینے کی دھمکی دی گئی ہے، اگر بین الاقوامی ایلچی کوفی عنان کےمجوزہ چھ نکاتی منصوبے کو مسترد کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس ‘ نے کہا ہے کہ جمعرات کو حما کے علاقے میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جِن میں حکومت نے بھاری دہانے سے فائر کیا، جب کہ جنوبی صوبہ ٴ درعا میں مخالف فریق نے چھپ کر وار کیے۔ سرگر م کارکنوں نے خبر دی ہے کہ قصبہ ٴقصیر کے حمص ضلع میں حکومتی فوج نے تین افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG