رسائی کے لنکس

logo-print

شام: اقوام متحدہ کا حمص میں پھنسے لوگوں کے انخلا کا مطالبہ


میجرجنرل رابرٹ موڈ نےاتوار کے دِن کہا کہ لڑنے والوں میں سے کوئی بھی اپنی طرف سے فائر بندی پر تیار نہیں اور یہ کہ گذشتہ ہفتے حمص سے سولینز کے انخلا کو یقینی بنانے کی اقوام متحدہ کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں

شام میں اقوام متحدہ کےمبصرمشن کےسربراہ نےحکومت اورباغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ حمص کے محصور شہر اور دیگر متنازع علاقوں میں پھنسی ہوئی خواتین، بچوں، عمر رسیدہ حضرات اور زخمیوں کےانخلا کی فوری اجازت دی جائے۔

میجرجنرل رابرٹ موڈ نےاتوار کے دِن کہا کہ لڑنے والی کوئی بھی دھر اپنی طرف سے فائر بندی پر تیار نہیں اور یہ کہ گذشتہ ہفتے حمص سے سولینز کے انخلا کو یقینی بنانے کی اقوام متحدہ کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔

اپوزیشن کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کی طرف سے اپنا کام معطل کیے جانے کے ایک دِن کے بعد، حکومتی فورسز نے ضلع حمص کے سنی مسلمانوں پر گولہ باری تیز تر کردی ہے، جِس کے نتیجے میں کم از کم 11افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

سرگرم کارکنوں نے اتوار کوغیرپیشہ ورانہ طور پر بنائی گئی ایک وڈیو جاری کی ہےجس میں بظاہر شام کے وسطی شہر میں ہونے والی زوردار گولہ باری دکھائی گئی ہے۔ اپوزیشن نے متعدد علاقوں میں ہفتے کو ہونے والی جھڑپوں اور گولہ باری کی اطلاعات بھی دی ہیں جن میں کم از کم 50افراد ہلاک ہوئے۔


اس وڈیو میں کیے گئے دعووں کے بارے میں آزادانہ طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں، تاہم گذشتہ ایک برس کے دوران جاری حکومت مخالف شورش میں حمص احتجاج کا گڑھ بنا رہا ہے، جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


حکومت شام کا کہنا ہے کہ تشدد کے واقعات کے ذمے دار، اُس کے بقول، ’دہشت گرد‘ ہیں۔

گذشتہ سال لاکھوں لوگ حمص سے فرار ہوگئے تھے، جب کہ فری سیریئن آرمی کے باغی اب بھی سولینز کے ساتھ چھپے ہوئے ہیں۔

تشدد کی صورتِ حال قابو سے باہر ہونے پر ہفتے کو اقوام متحدہ کے 300کے قریب غیر مسلح مبصرین کے مشن نے اپنا کام معطل کردیا۔ تاہم، موڈ نے کہا کہ عملہ ملک چھوڑ کر نہیں جائے گا، اور اتوار کو دمشق سے اقوام متحدہ کا ایک گروپ ہما کے لیےروانہ ہوا، تاکہ اپنے ساتھیوں کی جگہ لے سکے۔

XS
SM
MD
LG