رسائی کے لنکس

logo-print

کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا


خان شیخون

شام نے ایک سال قبل خان شیخون کے قصبے میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا مہلک حملہ کیا، جس مناسبت سے فرانس، جرمنی اور امریکہ نے عہد کیا ہے کہ ’’ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے گا‘‘۔

چار اپریل، 2017ء کی علی الصبح ہونے والے اس حملے میں شام کے لڑاکا طیاروں نے قصبے پر ’سیرن گیس‘ کے بم گرائے، جس میں بیسیوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں متعدد بچے شامل تھے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے بدھ کے روز فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ویزلے دریاں؛ جرمن وزیر خارجہ ہائکو ماس؛ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن اور قائم مقام امریکی معاون وزیر خارجہ جان سلیوان کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سات برس سے جاری لڑائی میں ’’حکومتِ شام کی جانب سے سرزد ہونے والی زیادتیوں میں کمی نہیں آئی، جس کی ذمہ دار حامیوں کی بے جا پشت پناہی رہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ اس وعدے سے ہٹ رہا ہے کہ شام پھر ہرگز ایسا نہیں کرے گا، جب نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں شام کے ملوث ہونے کی تفتیش کے بعد اس معاملے پر ووٹنگ کرائی جا رہی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم اس عزم پر قائم ہیں کہ تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘‘ اور یہ کہ ’’ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک شام میں ہونے والے اِن مکروہ حملوں کے متاثرین کو انصاف نہیں دلایا جاتا‘‘۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بدھ کے روز ایک سال قبل ہونے والے حملے کی یاد مناتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ شام کو کیمیائی حملوں سے روکنے کی عالمی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے اس تفتیش سے حاصل ہونے والا ثبوت اور اقوام متحدہ کی چھان بین سے پتا چلتا ہے کہ حکومت شام ہی اس حملے میں ملوث تھی۔

مشرق وسطیٰ سے متعلق ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے سربراہ، لامہ فقیہ نے کہا ہے کہ ’’شام میں حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے، جن پر دنیا بھر میں بندش عائد ہے، اور اُسے اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی‘‘۔

حقوق انسانی کے گروپ نے کہا ہے کہ جب روس نے اقوام متحدہ کی اُس قرارداد کو ویٹو کیا جس میں دوبارہ تفتیش کا کہا جا رہا تھا، شامی حکومت نے اب تک کم از کم پانچ مزید کیمیائی حملے کیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG