رسائی کے لنکس

logo-print

باغیوں کے زیر قبضہ دمشق کے مضافات کو واگزار کرانے کی جاری مہم کے دوران، شامی فوج نے مشرقی غوطہ پر شدید فضائی اور بَری کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ محصور علاقے کے لیے امدادی کاروان جمعرات کو مجوزہ راستے پر روانہ ہوگا، جب کہ سلامتی کی تشویش لاحق ہے۔ مشرقی غوطہ میں سنہ 2013سے اب تک 400000 افراد محصور بنے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی کے امور کی خاتون ترجمان، لِنڈا ٹوم نے کہا ہے کہ ’’عالمی ادارے کو مشرقی غوطہ میں لڑائی میں شدت آنے اور دمشق پر بھاری دہانے کی گولہ باری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس سے پھنسے ہوئے لاکھوں ضرورتمندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اعانت فراہم نہ ہونے کی رپورٹیں مل رہی ہیں، جس سے شہری آبادی کی جان کو خطرہ ہے، جس میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں‘‘۔

پیر کے روز دوما سے ملحق مشرقی غوطہ کے لیے 46 ٹرکوں پر مشتمل قافلہ رسد لے کر روانہ ہوا۔ لیکن، اقوام متحدہ، بین الاقوامی ریڈ کراس اور ’شامی عرب ہلال احمر‘ نے یہ مشن اُس وقت ترک کیا جب علاقے سے تشدد کے مہلک واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ٹوم نے بتایا کہ اُن میں سامان سے لدے 10 ٹرک کے علاوہ چار ایسے ٹرک ہیں جن سے امدادی رسد پوری طرح خالی نہیں ہوئی تھی، جب کہ 27500 افراد کے لیے بھیجی گئی خوراک بھی نہ بانٹی جا سکی۔

بقول اُن کے، ’’جیسے ہی صورت حال میں بہتری آتی ہے، اقوام متحدہ دوما اور مشرقی غوطہ کے سارے علاقوں کے ساتھ ساتھ محصور علاقوں میں جہاں پہنچنا دشوار ہے، تمام ضرورتمند افراد میں امدادی سامان تقسیم کرنے پر تیار ہے‘‘۔

ایسے میں جب روسی افواج کی حمایت یافتہ شامی حکومت نے حالیہ ہفتوں کے دوران علاقہ واگزار کرانے کی کوششیں تیز کی دی ہیں، مشرقی غوطہ میں لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ تشدد کی کارروائی میں 900 سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔ ادارے نے مزید بتایا کہ حکومت کی حامی افواج نے مخالفین کے زیر قبضہ علاقے میں سے نصف تک کا مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG