رسائی کے لنکس

logo-print

شام: وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے حزبِ اختلاف کا اجلاس


شامی حزبِ اختلاف کے مرکزی اتحاد کے رہنما ترکی میں ہونے والے ایک اجلاس میں وزیرِاعظم کا انتخاب کرنے والے ہیں

شامی حزبِ اختلاف کے مرکزی اتحاد کے رہنما ترکی میں ہونے والے ایک اجلاس میں وزیرِاعظم کا انتخاب کرنے والے ہیں جو باغیوں کے زیرِقبضہ علاقوں میں حکومتی امور چلانے کا ذمہ دار ہوگا۔

امکان ہے کہ 'سیرین نیشنل کولیشن' کے رہنما منگل کو وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے رائے شماری کریں گے۔ ماضی میں وزیرِاعظم کے انتخاب کی کئی کوششیں اتحاد میں شامل جماعتوں کے اختلافات کے باعث ناکام ہوچکی ہیں۔

مغربی ممالک کے حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف کے اس اتحاد کے رہنمائوں کا خیال ہے کہ باغیوں کی حکومت کی تشکیل کے نتیجے میں ان کے زیرِ قبضہ علاقوں کی صورتِ حال میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔

اتحاد کے چیئرمین جارج سابرا نے پیر کو استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم کے انتخاب اور حکومت کی تشکیل سے ان شامیوں کی بھی مدد کی جاسکے گی جو شام میں دو سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث اپنے گھر بار سے محروم ہوکر پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ترکی سمیت دنیا کے 100 سے زائد ممالک 'سیرین نیشنل کولیشن' کو شام کے عوام کے نمائندہ اتحاد کی حیثیت سے تسلیم کرچکے ہیں۔

لیکن حزبِ اختلاف ہی کے بعض رہنمائوں نے وزیرِاعظم کے انتخاب کی کوششوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کےبرعکس اتحاد کو باغیوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے یا تو کوئی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے یا ایسی عبوری حکومت قائم کرنی چاہیے جس میں موجود شامی حکومت کے نمائندے بھی شامل ہوں۔

دوسری جانب سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ شامی حکومت کے فوجی طیاروں نے پیر کو لبنان کی سرحد سے متصل علاقوں میں بمباری کی ہے۔

ان سرحدی علاقوں میں بمباری کا یہ پہلا واقعہ ہے جس کےبعد ان خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے کہ شام میں جاری فرقہ ورانہ کشیدگی پڑوسی ملک لبنان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

شامی فوجی دستوں نے پیر کو دارالحکومت دمشق کے بعض نواحی علاقوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا جس میں ہونے والے جانی نقصان کی درست تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
XS
SM
MD
LG