رسائی کے لنکس

logo-print

عوامی تحریک کا انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان


فائل فوٹو

طاہر القادری نے یہ اعلان ہفتے کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا جس میں انہوں الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے الفاظ استعمال کیے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔

طاہر القادری نے یہ اعلان ہفتے کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا جس میں انہوں الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے انتخابات میں حصہ نہ لینے کے الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی نظام کو صاف کرنے کی ضرورت ہے اور معاشرے میں آرٹیکل 62،63 سے متعلق شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

"الیکشن میں حصہ لینا ہماری جدوجہد کی موت ہے۔ پچیس جولائی کے بعد جھوٹے، نااہل اور جرائم پیشہ چہرے اسمبلی میں بیٹھے نظر آ رہے ہونگے۔ نظام کا حصہ بنے بغیر ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔"

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے تمام امیدواروں کو حکم دیا ہے کہ اپنے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیں۔

"جمہوریت کے نام پر جو جرم ہورہا ہے، اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ہم سیاسی نظام کو کرپشن سے پاک کرنے کی جنگ لڑرہے ہیں۔ لیکن بعض سیاسی جماعتوں اور رہنماوں نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے۔"

اپنی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کسی بھی سیاسی رہنما کا نام تو نہیں لیا، البتہ اشارتاً کہا کہ ایسے نظام کو جمہوریت نہیں کہتے۔ یہ نظام کرپٹ اور طاقتور کو تحفظ دینے والا ہے۔ اگر الیکٹیبلز مجبوری ہیں تو دھرنے اور احتجاج کیوں کرتے رہے؟

پاکستان عوامی تحریک کے الیکشن میں حصہ نہ لینے پر پاکستان تحریکِ انصاف وسطی پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے اور انہوں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سانحۂ ماڈل ٹاون پر پاکستان عوامی تحریک کا ساتھ دیا تھا اور وہ آج بھی اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا طاہر القادری نے بہت دانش مدانہ فیصلہ کیا ہے کیوںکہ حقائق یہ ہیں کہ ان کی جماعت قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست نہیں جیت سکتی اور انہیں آئندہ الیکشن میں اپنی جماعت کی واضح ناکامی نظر آ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG