رسائی کے لنکس

logo-print

تائیوان کو ترجیح دینے والے غیر ملکی صحافیوں کی تعداد میں اضافہ


(فائل فوٹو)

تائیوان نے رواں سال 22 ایسے صحافیوں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی ہے جنہیں بعض ممالک میں قدغنوں کی وجہ سے صحافتی فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا تھا۔ تائیوان منتقل ہونے والوں میں سے سات صحافی اس سے پہلے چین میں کام کر رہے تھے۔

تائیوان کی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان صحافیوں کو تائیوان میں کام کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کیوں کہ یہاں صحافیوں کو کام کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں چین میں کام کرنے والے صحافیوں نے شکایت کی تھی کہ اُنہیں سینسر شپ کا سامنا ہے جب کہ چین نے کچھ امریکی صحافیوں کو بے دخل بھی کیا۔

تائیوان پہنچنے والے 22 میں سے سات صحافی اس سے پہلے چین میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ لیکن اُنہیں مارچ میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت سے متعلق خبریں شائع کرنے پر بے دخل کر دیا گیا تھا۔

ملک سے نکالے جانے والے صحافی امریکی جریدوں 'نیویارک ٹائمز' اور 'وال اسٹریٹ جرنل' کے لیے کام کرتے ہیں۔

'نیویارک ٹائمز' کے عہدے داروں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین میں ہمارے صحافیوں کو پیش آنے والی مشکلات کے باعث اُنہیں تائیوان اور خطے کے دیگر علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے صحافتی فرائض انجام دے سکیں۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور کئی بار فوجی طاقت کے ذریعے اسے ضم کرنے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔

غیر ملکی صحافی چین کی حکومت سے متعلق خبروں اور دیگر واقعات کی کوریج کے لیے بیجنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ تائیوان میں رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں۔

امریکہ کے تحقیق سے متعلق ایک ادارے 'فریڈم ہاؤس رپورٹ' کے مطابق تائیوان کا شمار ایشیا میں صحافت کے لیے موزوں ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کی اجازت ہے۔

تائیوان میں 68 غیر ملکی میڈیا اداروں کے لگ بھگ 114 صحافی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG