رسائی کے لنکس

logo-print

قندھار: طالبان حملے میں افغان پولیس کے 16 اہل کار ہلاک


فائل

سکیورٹی پر مامور ایک مقامی اہل کار نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہ لڑائی قندھار کے میوند ضلعے میں ہوئی۔ اہل کار نے بتایا کہ اِن جھڑپوں کے دوران، افغان افواج نے بھی طالبان کو شدید جانی نقصان پہنچایا

افغانستان کے جنوبی صوبے میں گذشتہ رات طالبان باغیوں نے بڑا حملہ کیا، جس دوران کم از کم 16 پولیس اہل کار ہلاک ہوئے، جب کہ دو سرکاری چوکیوں پر قبضہ کیا گیا۔

سکیورٹی پر مامور ایک مقامی اہل کار نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہ لڑائی قندھار کے میوند ضلعے میں ہوئی۔ اہل کار نے بتایا کہ اِن جھڑپوں کے دوران، افغان افواج نے بھی طالبان کو شدید جانی نقصان پہنچایا۔

اُنھوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے تین امریکی ساختہ بکتربند گاڑیوں پر قبضہ کر لیا، جنھیں عرف عام میں ’ہمویز‘ کہا جاتا ہے۔ اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کے لیے کہا۔

صوبائی پولیس کے ترجمان، ضیا درانی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ 27 طالبان لڑاکے ہلاک کیے گئے، جن میں چار کلیدی کمانڈر شامل ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان، صمیم خپلواک نے لڑائی کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، مزید تفصیل زیر بحث لانے سے انکار کیا۔

قندھار طالبان کا آبائی خطہ رہ چکا ہے۔ اِسے افغانستان کا فی الواقع دارلحکومت کہا جاتا تھا، جب باغی گروپ ملک میں حکمراں تھا، جب سنہ 2001 میں امریکی قیادت والے فوجی اتحاد نے اُسے اقتدار سے ہٹایا۔

XS
SM
MD
LG