رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے حملوں میں 40 سے زیادہ افغان سیکورٹی اہل کار ہلاک


قندوز میں سیکورٹی فورسز طالبان کا حملہ پسپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق طالبان نے ایک ایسے موقع پر شمالی افغانستان میں الگ الگ حملوں میں سرکاری فورسز کے 40 سے زیادہ اہل کاروں کو ہلاک کر دیا، جب آج منگل کے روز ماسکو میں افغان جنگ کے سیاسی حل کے لیے طالبان اور افغان حزب مخالف جماعتوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

سرکاری عہدے داروں نے کہا ہے کہ شورش پسندوں نے یہ مہلک ترین حملے منگل کی صبح قندوز کے صوبائی دارالحکومت کے قریب کیے۔

صوبائی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سیف اللہ امیری نے افغان میڈیا سروس کو بتایا کہ حملے میں کم ازکم 25 فوجی اور تین پولیس اہل کار ہلاک جب کہ 20 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

کابل میں وزارت دفاع کے عہدے داروں نے منگل کی صبح طالبان کے ایک بڑے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کو جلد ہی پسپا کر دیا گیا، جس میں 22 عسکریت پسند ہلاک اور بہت سے زخمی ہوئے۔

وزارت دفاع نے سرکاری فورسز کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن تعداد نہیں بتائی۔

طالبان کے ترجمان ذبح اللہ مجاہد نے قندوز میں عسکریت پسندوں کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغان نیشنل آرمی کے 30 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوئے۔

طالبان نے ایک قریبی صوبے بغلان میں ایک پولیس چوکی کو بھی نشانہ بنایا۔ افغان میڈیا نے شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں کم ازکم 10 اہل کار ہلاک ہوئے۔

افغان عہدے دار شاذ و نادر ہی اپنے سیکورٹی اہل کاروں کی ہلاکتوں کی تعداد بتاتے ہیں، لیکن پچھلے مہینے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ 2014 میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 4500 سے زیادہ افغان سیکورٹی اہل کار مارے جا چکے ہیں۔

ماسکو مذاکرات

طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان یہ جھڑپیں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب ماسکو میں طالبان اور افغان حزب اختلاف کے راہنماؤں کے درمیان ماسکو میں مذاکرات ہو رہے ہیں جن کے بارے میں منتظمین نے بتایا کہ دو روز تک جاری رہنے والے ان امن مذاکرات میں افغانستان کے لیے حالیہ امن کوششوں پر گفتگو کی جائے گی۔

افغان وزارت خارجہ کے ایک ترجمان صبغت اللہ احمدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ماسکو مذاکرات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور افغان حکومت ان مذاکرات کے کسی ممکنہ نتیجے کو قبول نہیں کرے گی۔

ان مذاکرات میں طالبان کے ایک 10 رکنی وفد کی قیادت شیر محمد ستینک زئی کر رہے ہیں جب کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت تقریباً 40 اہم افغان شخصیات ماسکو بات چیت میں شریک ہیں، لیکن ان مذاكرات کے لیے صدراشرف غنی کی حکومت کے کسی نمائندے کو مدعو نہیں کیا گیا۔

وائس آف امریکہ اردو کی سمارٹ فون ایپ ڈاون لوڈ کریں اور حاصل کریں تازہ تریں خبریں، ان پر تبصرے اور رپورٹیں اپنے موبائل فون پر۔

ڈاون لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

اینڈرایڈ فون کے لیے:

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.voanews.voaur&hl=en

آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے:

https://itunes.apple.com/us/app/%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%88-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/id1405181675

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG