رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکہ، طالبان امن معاہدے پر دستخط 13 اگست کو متوقع'


طالبان کا وفد دوحہ میں انٹرا افغان کانفرنس میں شریک ہے۔ (فائل فوٹو)

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیامِ امن سے متعلق حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔

زاہد نصراللہ نے وائس آف امریکہ پشتو سروس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

اس سے قبل افغان طالبان نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔

مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ روابط ختم کر دیں گے۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق، طالبان کے ایک اہم رہنما نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

گزشتہ دو روز سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کا یہ آٹھواں دور ہے جسے انتہائی اہم اور فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ طالبان افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں ترک کر کے سیاسی دھارے میں شامل ہوں۔ طالبان کا یہ مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان سے نکل نہیں جاتیں، اس وقت تک امریکہ اور کابل حکومت کی تنصیبات پر حملے جاری رہیں گے۔

دوحہ مذاکرات کے دوران طالبان کا وفد۔ (فائل فوٹو)
دوحہ مذاکرات کے دوران طالبان کا وفد۔ (فائل فوٹو)

مذاکرات کے دوران امریکی وفد اس بات پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ طالبان افغانستان میں موجود انتہا پسند گروپوں کے ساتھ اپنے روابط ختم کر دیں اور یہ یقین دہانی کرائیں کہ افغانستان کی سرزمین دوبارہ دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

مذاکرات میں امریکی وفد کے سربراہ اور امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد امید ظاہر کر چکے ہیں کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ رواں ماہ طے پا جائے گا۔

طالبان افغانستان کی حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے تاحال گریزاں ہیں۔ ان کے بقول، کابل حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی ہے۔ لہذٰا، ان سے مذاکرات بے سود ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے بھی پیر کو اپنی ایک ٹوئٹ میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ زلمے خلیل زاد نے اس بات کا اشارہ بھی دیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے افواج کے مشروط انخلا پر رضا مند ہے۔

یاد رہے امریکہ اور طالبان کے درمیان اس سے قبل بات چیت کے سات دور ہو چکے ہیں جن میں افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا اور ایک محفوظ افغانستان کے معاملات زیر بحث آئے۔

طالبان کے قطر میں واقع سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین بھی قبل ازیں اس توقع کا اظہار کر چکے ہیں کہ امن مذاکرات کے تازہ، اور ان کے بقول، فیصلہ کُن مرحلے کے دوران غیر ملکی افواج کے انخلا کے حوالے سے فریقین کے درمیان سمجھوتہ طے پا جائے گا۔

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان سے بات چیت شروع کرنے سے پہلے یکم اور دو اگست کو اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں افغان امن عمل میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

مجوزہ امن معاہدے کے چار اہم نکات

وائس آف امریکہ کی نمائندہ عائشہ تنظیم کے مطابق، امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے چار اہم جزو ہیں۔

مجوزہ امن معاہدے میں امریکی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا اور اس کے بدلے یہ یقین دہانی شامل ہے کہ طالبان افغانستان میں دوبارہ دہشت گرد گروپوں کے محفوظ ٹھکانے پنپنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امن معاہدے کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل ہے کہ طالبان دیگر افغان دھڑوں اور کابل حکومت سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے، جب کہ ایجنڈے میں شامل چوتھا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ ملک گیر جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس پیش رفت کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل شاہین نے بتایا کہ جن معاملات پر اتفاقِ رائے ہوا ہے انہیں حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG