رسائی کے لنکس

افغانستان کے لیے خطرہ بننے والی داعش خراسان کون ہے؟


فائل فوٹو

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر جمعرات کو ہونے دھماکوں کی ذمے داری داعش خراسان نامی گروپ نے قبول کی ہے۔ ان دھماکوں میں امریکہ کے 12 فوجی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حملے سے قبل ہی امریکی حکام نے خبردار کر دیا تھا کہ کابل ایئرپورٹ پر امریکہ اور دیگر ممالک کے ہزاروں فوجیوں کی موجودگی اور ملک چھوڑنے والے افغانوں کا ہجوم ہے اس لیے اسے داعش سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

کابل ایئرپورٹ کے حالیہ دھماکوں کے علاوہ ماضی میں افغانستان میں خون ریز کارروائیاں کرنے والی تنظیم ’داعش خراسان‘ کا پس منظر اور مستقبل میں اس کا کردار ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔

داعش خراسان کب بنی؟

شام میں عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے 2014 میں جب خلافت کے قیام کا اعلان کیا تو اس کے چند ہی ماہ بعد افغانستان میں ایک گروہ نے اس کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا۔

اس گروہ نے پاکستان، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے علاقوں پر مشتمل خطے کے قدیم نام ’خراسان‘ پر اپنا نام ’دولت اسلامیہ خراسان‘ رکھا تھا۔

شدت پسندی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ گروہ مغربی افغانستان میں سامنے آیا۔

کیا داعش اب بھی دنیا کے لیے خطرہ ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:29 0:00

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے فرار ہوکر افغانستان میں پناہ لینے والے پاکستانی طالبان کے سخت گیرعناصر نے داعش خراسان کی بنیاد رکھی تھی۔

داعش کی مرکزی تنظیم نے 2015 میں اس گروہ کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ ابتدائی طور پر داعش خراسان پاکستان کے سرحدی علاقوں تک محدود تھی لیکن بعد ازاں اس گروہ نے شمال مشرقی افغانستان میں بالخصوص کنڑ، ننگرہار اور نورستان کے صوبوں میں اپنی جڑیں گہری کرلیں۔

افغانستان کے شمال میں صوبہ جوزجان اور فاریاب کو اس کا دوسرا بڑا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے مطابق یہ گروہ پاکستان اور کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں اپنے سلیپر سیلز بھی رکھتا ہے۔

گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کی کم سے کم افرادی قوت 500 ہے اور جب کہ اس کے لیے کام کرنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد کئی ہزار تک ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ کے کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے مطابق داعش خرسان میں پاکستانی، ازبک اور افغان شدت پسند شامل ہیں۔

خوں ریز کارروائیاں

داعش کے افغانستان اور پاکستان میں سرگرم اس گروہ نے گزشتہ چند برسوں میں ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔

دونوں ممالک میں اس گروہ نے مساجد، مزارات، عوامی مقامات اور اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یہ گروہ شیعہ مکتب فکر سمیت مسلمانوں کے ان فرقوں کو بھی نشانہ بناتا ہے جنھیں یہ اپنی مذہبی تعبیرات کے مطابق دینی تعلیمات سے منحرف تصور کرتا ہے۔

گزشتہ برس کابل کے شیعہ آبادی والے علاقے کے میٹرنٹی ہوم میں ہونے والے ہلاکت خیز حملے کے لیے بھی داعش خراسان کو ذمے دار قرار دیا جاتا ہے۔ اس حملے میں 16 خواتین ہلاک ہوئی تھیں جن میں سے بیشتر حاملہ تھیں۔

بم دھماکوں اور قتلِ عام میں ملوث یہ گروہ افغانستان سمیت خطے میں کسی علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کام یاب نہیں ہو سکا ہے۔

داعش خراسان کو طالبان اور امریکہ کی کارروائیوں سے بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔

اپریل 2017 میں امریکہ نے مشرقی افغانستان میں ننگر ہار کے علاقے اچین میں داعش خراسان سے متعلقہ ایک پیچیدہ غاروں کے سلسلے پر 20 ہزار پاؤنڈ وزنی بم بھی گرایا تھا۔ اس بم کو ’مدر آف آل بمز‘ (یعنی بموں کی ماں) کا نام دیا گیا تھا۔

امریکہ اور برطانیہ کے عسکری جائزوں کے مطابق داعش خراسان شکست کے بعد مختلف علاقوں میں بکھر چکی ہے اور خفیہ سیلز کے ذریعے بڑے شہروں میں کارروائیاں کر رہی ہے۔

طالبان اور داعش خراسان کے تعلقات کی نوعیت

فکری مماثلتوں کے باوجود طالبان اور داعش خراسان کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

ابتدا ہی سے داعش خراسان نے طالبان کے زیرِ انتظام اہم علاقوں میں انہیں چیلنج کیا ہے اور پاکستان میں اپنے اتحادی شدت پسندوں کے ساتھ مل کر منشیات اور دیگر ساز و سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہے ہیں۔

طالبان اور داعش میں مذہبی جزئیات اور حکمتِ عملی پر اختلاف پایا جاتا ہے اور دونوں ہی جہاد کے حقیقی علم بردار ہونے کے دعوے دار ہیں۔

داعش اور طالبان کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب 2019 میں طالبان نے افغانستان میں پیش قدمی شروع کی تھی۔ داعش خراسان مشرقِ وسطیٰ میں اپنی مرکزی تنظیم کے برعکس افغانستان میں کسی علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کام یاب نہیں ہوپا رہی تھی۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق طالبان اور داعش خراسان کے درمیان کشیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ داعش نے اپنے ایک بیان میں طالبان کو ’مرتد‘ قرار دیا تھا۔ مرتد دین سے انحراف کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔

اس کے علاہ گزشتہ برس جب طالبان اور امریکہ کے درمیان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا معاہدہ طے پایا تھا تو داعش خراسان نے اس پر تنقید کی تھی اور طالبان پر جہاد کے مقصد سے انحراف کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

رواں برس طالبان کی افغانستان میں پیش قدمی اور مختلف علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے پر متعدد جہادی اور عسکریت پسند گروہوں نے ان کے نام مبارک باد کے پیغام جاری کیے۔ البتہ داعش کا ایسا کوئی پیغام سامنے نہیں آیا۔

مستقبل کے امکانات

شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری امریکی تنظیم ’سائٹ انٹیلی جنس گروپ‘ کے حوالے سے ’اے ایف پی‘ نے بتایا کہ کابل پر طالبان کا قبضہ ہونے کے بعد دیگر عسکری تنظیموں کے برعکس داعش خراسان نے امریکہ سے طالبان کے معاہدے کو غداری قرار دیا تھا اور لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

داعش خراسان افغانستان میں مغربی ممالک کی مدد سے قائم ہونے والی سابقہ حکومت اور طالبان دونوں ہی سے برسرِ پیکار رہی ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ شام اور عراق میں موجود مرکزی تحریک سے اس کے عملی سطح پر رابطے ہیں یا نہیں۔

امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ داعش خراسان افغانستان میں حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر اپنی طاقت بڑھائے گی اور طالبان سے علیحدگی اختیار کرنے والے جنگجوؤں کو بھرتی کرے گی۔

اس تحریر میں شامل معلومات خبر رساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG