رسائی کے لنکس

افغانستان: طالبان نے بغلان میں ایک مقامی گلوکار کو قتل کر دیا


افغان گلوکار فواد اندرابی، جنہیں طالبان نے قتل کر دیا ہے۔

افغانستان کے شمالی صوبے بغلان میں ایک مشہور مقامی فوک گلوکار فواد اندرابی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایک طالبان جنگجو نے گزشتہ جمعہ کے روز انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

فواد اندرابی کے بیٹے جاوید اندرابی نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بغلان صوبے کی اندراب وادی میں ان کے والد کو خاندان کے فارم ہاؤس سے گھسیٹ کر باہر لایا گیا اور سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا۔ اس سے پہلے طالبان جنگو نے ان کے ساتھ چائے بھی پی۔

فواد کے بقول، "وہ بے قصور تھے۔ وہ ایک ایسے گلوکار تھے جو صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرتے تھے"۔

سابق افغان حکام نے اس قتل پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کے سابق وزیر داخلہ مسعود اندرابی، جو اسی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے گلوکار کی ہلاکت کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

مسعود اندرابی نے لوک گلوکار کی پرفارمنس کی ویڈیو کے ساتھ ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں لکھا، "آج انہوں نے لوک گلوکار، فواد اندرابی کو بے دردی سے قتل کیا جو کہ وادی اور اس کے لوگوں کے لیے خوشیاں لانے کا باعث تھے۔"

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ طالبان اس واقعے کی تفتیش کریں گے۔

گلوکار کے قتل کا واقعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ بدھ کے روز نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ "موسیقی اسلام میں حرام ہے"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایک بار پھر افغانستان میں موسیقی پر عوامی سطح پر پابندی لگا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو امید ہے کہ وہ لوگوں پر دباؤ ڈالنے کی بجائے انہیں آمادہ کر سکیں گے کہ وہ ایسے کام نہ کریں۔

اخبار دی گارڈین کے مطابق، حکمرانی کے پچھلے دور میں طالبان نے موسیقی پر پابندی لگا دی تھی۔ اخبار نے بتایا ہے کہ اس دور میں کیسٹ ٹیپ کو تباہ کر دیا گیا، موسیقی کے آلات پر پابندی عائد کر دی گئی، اور یہاں تک کہ گھروں میں ایسے پرندے پالنے کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا تھا جو گاتے ہیں۔

ثقافتی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کریمہ بینون اور فنکارانہ آزادی پر یونیسکو کی خیر سگالی سفیر دیہ خان نے اندرابی کے قتل کی خبروں پر "شدید تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے بھی اس قتل کی مذمت کی۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ 2021 کے طالبان 2001 کے عدم برداشت، پرتشدد، جابرانہ طالبان کی طرح ہیں؛ "اس محاذ پر کچھ نہیں بدلا۔"

مقامی گلوکار کے قتل کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ طالبان اپنے سابقہ سخت موقف پر واپس آ سکتے ہیں اور افغان شہریوں کے لیے زندگی کے حالات مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔

اندراب وادی پنج شیر وادی کے ساتھ واقع ہے، جو کابل سے 90 میل شمال میں ہے، جہاں طالبان اور شمالی ملیشیا کے مسلح اتحاد کے مابین لڑائی گزشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ کچھ حالیہ لڑائی اندراب وادی کے اضلاع میں بھی ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG