رسائی کے لنکس

کیا طالبان سے مذاكرات سے انکار مستقبل کی امریکی حکمتِ عملی ہے؟


صدر ٹرمپ کا طالبان کے ساتھ مذاكرات سے انکار کے بعد پاکستان کی افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے کردار پر، ساجد تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ امریکہ کے ساتھ دوہری چال چلتا آیا ہے اور اب امریکہ اس کو سنجیدگی سے لے گا۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے لگاتار مہلک حملوں کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کے سات ایک ملاقات میں کہی ہے۔ اس بیان پر مبصرین نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے ایک سرگرم کارکن، ساجد تارڑ کا کہنا ہے کہ صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ہم نے دیکھا ہے کہ صدر ٹرمپ جو کہتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ پاکستان کو امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی کے کچھ عرصے بعد انہوں نے امداد روک دی۔ اور اب جب طالبان مذاكرات کی میز پر آنے کی بجائے مسلسل معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے اور آنے والے دنوں میں وہ طالبان کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے افغانستان سے متعلق کمزور امریکی پالیسی سے، طالبان اور ان کے حمامیوں نے غلط فائدہ اٹھایا لیکن اب جبکہ پنٹاگان بھی صدر ٹرمپ کی طرح کہہ رہا ہے کہ طالبان کو پسپا کرنے کے لئے دیگر ذرائع کو بھی بروئے کار لا یا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا طالبان کے ساتھ مذاكرات سے انکار کے بعد پاکستان کی افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے کردار پر، ساجد تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ امریکہ کے ساتھ دوہری چال چلتا آیا ہے اور اب امریکہ اس کو سنجیدگی سے لے گا۔

افغان پیس کونسل کے ایک رکن، بدرالدین افغان نے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کے حالیہ حملے غیر انسانی ہیں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے تاہم ان کا کہنا تھا ایسے میں جب طالبان کا ایک دھڑا مذاكرات کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف ہے امن مذاكرات کے لئے جاری کوششوں کو یکسر روکنا اور رد کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر یہ ہوگا کہ بات چیت کے خلاف حقانی نیٹ ورک کو مذاكرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان پر مزید دباؤ ڈالا جائے۔

پاکستان سے ملٹری انٹیلی جینس کے سابق سربراہ اور دفاعی تجزیہ نگار، ریٹائرڈ بریگیڈیر حامد سعید نے افغان طالبان سے مذاكرات نہ کرنے کے امریکی صدر کے بیان کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے افغانستان اور خطے میں امریکہ اور افغانستان کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگا، مزید خون بہے گا اور امن کی منزل بدستور دور رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کے اس بیان کو امریکی پالیسی کی شکل دی جاتی ہے تو بہت ممکن ہے کہ افغانستان میں طالبان اور واعش اتحاد کرے جس سے افغان تنازع مزید گھمبیر ہو گا۔

XS
SM
MD
LG