رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان میں ایغور مسلح گروپوں کی موجودگی کی خبریں درست نہیں: ذبیح اللہ مجاہد


فائل

طالبان نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے، جن کے مطابق ان کی صفوں میں چین مخالف مشرقی ترکستانی (ایغور) مسلمان عسکریت پسند موجود ہیں۔

طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’افغانستان میں ان مسلح گروہوں کی موجودگی سے متعلق یہ رپورٹیں افواہیں اور محض پروپیگنڈا ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’یہ خبریں اس لیے جاری کی گئی ہیں تاکہ طالبان اور ہمسایہ ملکوں کے مابین غیر یقینی صورت حال پیدا کی جا سکے اور خطے میں امریکی موجودگی کو درست قرار دیا جائے‘‘۔

طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ ’’چند مغربی میڈیا اداروں نے ایک وڈیو شائع کی ہے جس میں ایغور شدت پسندوں کو طالبان کی صفوں میں دکھایا گیا ہے، جس میں وہ اسلحہ اٹھائے ہوئے اور ہموی اور پک اپ ٹرکوں کے ہمراہ کھڑے ہیں‘‘۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ایغور عسکریت پسندوں کی موجودگی کے دعوؤں کو مسترد کیا۔ تاہم، انھوں نے ایغور کو مجاہدین قرار دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عسکریت پسند ہیں جو غیر مسلموں کے خلاف لڑتے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’’طالبان ہمسایہ ملکوں اور دنیا کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا‘‘۔

انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ’’دوسرے ملک بھی خیرسگالی کے اسی جذبے پر عمل پیرا ہوں گے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG