رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں ایغور مسلمان خاندانوں کو ہراساں کیے جانے پر امریکہ کو تشویش


امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو۔ فائل فوٹو

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو چینی صوبے سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کو مسلسل ہرساں کیے جانے پر شدید تشویش ہے۔

انہوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ان مسلمان خاندانوں کے افراد کو ہراساں کرنے کے علاوہ انہیں قید میں رکھا جاتا ہے یا پھر انہیں بغیر قانونی جواز کے زیر حراست رکھا جاتا ہے۔ ہراساں کیے جانے والوں میں فعال ایغور مسلمان کارکن اور سنکیانگ کے حراستی کیمپوں سے رہائی پانے والے ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی کہانی عام لوگوں کے سامنے رکھی۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بعض حالتوں میں ایغور مسلمان افراد کو امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر اہلکاروں سے ملاقات کے فوراً بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے چینی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حراست میں لیے گئے تمام ایغور مسلمانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

چین کے صوبے سنکیانگ میں ویغور مسلمانوں کیلئے قائم کیا جانے والا ایک بڑا حراستی کیمپ
چین کے صوبے سنکیانگ میں ویغور مسلمانوں کیلئے قائم کیا جانے والا ایک بڑا حراستی کیمپ

مائک پومپیو نے اپنے بیان میں ایک فعال ایغور خاتون کارکن، زمرت دعوت کا خاص طور پر ذکر کیا جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ایک تقریب کے دوران تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ سنکیانگ میں کس طرح ایغور مسلمانوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ضعیف والد کو متعدد بار پوچھ گچھ کیلئے حکام نے حراست میں لیا اور وہ حراست کے دوران مشکوک حالات میں انتقال کر گئے۔ زمرت دعوت نے مزید بتایا کہ انہیں بھی چینی حکام نے گرفتار کر کے حراستی مراکز میں رکھا تھا۔

چین پر سنکیانگ کے دور دراز علاقوں میں ایسے حراستی مراکز یا کمپلیکس قائم کرنے پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے جنہیں چینی حکومت ’’پیشہ ورانہ تربیتی ادارے‘‘ قرار دیتی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ ان اداروں کا مقصد ملک میں انتہا پسندی کا خاتمہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان مراکز میں لوگوں کو نئے ہنر سکھائے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں دس لاکھ سے زائد ایغور مسلمانوں کو زیر حراست رکھا گیا ہے۔ تاہم، چین اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ان مراکز میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ کوئی زیادتی کی جا رہی ہے۔ چین کہتا ہے کہ سنکیانگ میں قائم کیے گئے مراکز چین کا اندرونی معاملہ ہے۔

چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دنیا کی ان دو سب سے بڑی معیشتوں میں گزشتہ 15 ماہ سے تجارتی جنگ بھی جاری ہے۔ چین امریکہ کی طرف سے ہانگ کانگ کے مظاہرین کی حمایت کو بھی چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG