رسائی کے لنکس

طالبان نے امریکی اور آسٹریلوی یرغمالیوں کی وڈیو جاری کر دی


کنگ نے لمبی داڑھی رکھ لی ہے۔ بقول اُن کے، ’’قید کرنے والے، میرے ساتھ اچھی طرح پیش آتے ہیں۔ اُنھوں نے مجھے اور میرے ساتھی، ٹِم ویکز کو مہمان کے طور پر رکھا ہوا ہے؛ لیکن، ہر قیدی کی بالآخر یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے قید سے رہائی ملے‘‘

افغانستان کے طالبان نے بدھ کے روز ایک نئی وڈیو جاری کی ہے جِس میں دو پروفیسر نظر آ رہے ہیں، جِن میں سے ایک امریکی جب کہ دوسرے آسٹریلیائی ہیں، جنھوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائی کے حصول کے لیے اِس اسلام نواز باغی گروپ کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔

ساٹھ برس کے امریکی کیون کنگ اور 48 برس کے آسٹریلوی، ٹموتھی ویکز کابل میں امریکن یونیورسٹی آف افغانستان میں تدریس سے وابستہ رہے ہیں۔ اُنھیں گذشتہ اگست میں بندوق کی نوک پر کیمپس کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔

افغان طالبان، اِن دو پروفیسروں کے بدلے اپنے ’’سپاہیوں‘‘ کی رہائی کے خواہاں ہیں، جو امریکی قیادت والے بگرام کے فضائی اڈے اور پلِ چرخی نامی افغان قید خانے میں بند ہے۔ یہ بات یرغمال بنانے والوں نے اپنے دو وڈیو پیغامات میں کہی ہے۔

کنگ نے لمبی داڑھی رکھ لی ہے۔ بقول اُن کے، ’’قید کرنے والے، میرے ساتھ اچھی طرح پیش آتے ہیں۔ اُنھوں نےمجھے اور میرے ساتھی، ٹِم ویکز کو مہمان کے طور پر رکھا ہوا ہے؛ لیکن، ہر قیدی کی بالآخر یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے قید سے رہائی ملے‘‘۔

کنگ کہتے ہیں کہ اُنھوں نے 16جون کو یہ پیغام ریکارڈ کرایا ہے۔

اُن کی طرف سے، ویکز نے آسٹریلیائی سیاست دانوں پر زور دیا کہ معاملہ پارلیمان میں اٹھایا جائے، یہ کہتے ہوئے کہ اُن کے لیے وطن واپسی کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے، اور وہ یہ کہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم (میلکم ٹرن بُل) طالبان اور صدر ٹرمپ سے گفتگو کریں، تاکہ اُنھیں قید کرنے والوں سے کوئی سمجھوتا طے پا سکے۔

ویکز نے کہا کہ ’’میری دعا ہے کہ جلدی میں ایسا ہو اور یہ کہ طالبان سپاہی عید سے پہلے اپنے اہل خانہ سے آ ملیں، اور میں اپنے اہل خانہ اور احباب کے ساتھ مل سکوں۔ برائے مہربانی، میری مدد کی جائے۔ شکریہ‘‘۔

طالبان کی جانب سے جنوری میں ذرائع ابلاغ کو جاری کی جانے والی دوسری وڈیو میں کہا تھا کہ اپنے مطالبات کو سامنے لانے کے لیے اُن کے پاس ’’یہ ثبوت‘‘ موجود ہے۔ نہ تو حکومت افغانستان ناہی ہی امریکی حکام نے اس وڈیو پر کوئی بیان جاری کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مغوی بدنام حقانی نیٹ ورک کی حراست میں ہیں، جو طالبان کا اتحادی ہے۔

یہ وڈیو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب افغان حکام طالبان کے ایک گروپ کو پھانسی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن پر دہشت گردی کا الزام ثابت ہوا ہے۔

تاہم، ابھی یہ واضح نہیں آیا انس حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے بانی، جلال الدین حقانی کا بیٹا ہے، قیدیوں کے اِس گروپ میں شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG