رسائی کے لنکس

logo-print

دوحہ مذاکرات میں امن سمجھوتے پر بات چیت


طالبان وفد (فائل)

طالبان نے جمعے کے روز کہا ہے کہ قطر میں امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ تازہ ترین ملاقاتوں کے دوران دونوں فریقین نے امن سمجھوتے پر دستخط کرنے سے متعلق معاملے پر بات چیت ہوئی ہے، تاکہ 18 برس سے جاری افغان جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

عسکری گروپ کے اس بیان سے دو روز قبل اس کے سیاسی نمائندوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی مصالحت کاروں کے ساتھ براہ راست بات چیت کے دوران مختصر اور جزوی جنگ بندی کی پیش کش کی، جس کا مقصد تشدد کی مہلک کارروائیوں کو ختم کرنا ہے۔

طالبان کے مذاکراتی وفد کے ترجمان، سہیل شاہین نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ گذشتہ دو روز کے اجلاسوں میں دونوں فریق نے سمجھوتے پر دستخط کی تقریب کے بارے میں بات کی۔

انھوں نے امریکی وفد کے سربراہ، افغان نژاد امریکی سفارت کار، زلمے خلیل زاد سے اپنی بات چیت کو ’’نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا۔ بقول ان کے، ’’یہ مذاکرات مزید چند روز جاری رہیں گے‘‘۔

شاہین نے طالبان کی جانب سے پیش کردہ محدود جنگ بندی کی پیش کش پر کوئی بیان نہیں دیا۔ یہ بھی واضح نہیں آیا باغی اپنی شدت پسند کاروائیوں میں کب تک کمی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات 10 روز تک جاری رہ سکتے ہیں۔ طالبان مذاکرات میں پیش رفت یا مخاصمانہ کارروائیوں میں محدود التوا پر تیار دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی فریق کی جانب سے کوئی فوری رد عمل سامنے نہیں آیا۔

خلیل زاد نے گذشتہ ماہ طالبان سے یہ کہتے ہوئے بات چیت بند کردی تھی کہ میدان جنگ کی مخاصمت میں کمی لائیں، تاکہ ان کا وفد امن عمل پر فیصلے کے لیے میز پر آ سکے۔

باغیوں کے ذرائع نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی طالبان کا ردعمل جاننے کے لیے کئی روز سے دوحہ میں موجود ہیں۔ جب کہ خلیل زاد کے دفتر نے قطر میں اپنی موجودگی سے متعلق خاموشی اختیار کیے رکھی ہے۔

افغان حکومت نے، جو امریکہ طالبان مذاکرات سے باہر ہیں، جمعے کے روز یہ کہتے ہوئے طالبان کی جانب سے تشدد میں کمی کی پیش کش کی مخالفت کا اعادہ کیا، کہ وسیع مدت تک جنگ بندی سے ہی پتا چلے گا کہ باغی گروپ امن عمل کی مزید کوششوں میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

معاون صدارتی ترجمان، دعویٰ خان مینا پال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’جنگ بندی ہی دیرپا اور باعزت امن کے حصول کا راستہ ہے، جو عوام اور حکومتِ افغانستان کا مطالبہ ہے‘‘۔

اگر اس سمجھوتے پر دستخط ہوتے ہیں تو امریکہ طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں 13000 سے زائد امریکی فوج اور اتحادیوں کے ہزاروں ساتھیوں کا مرحلہ وار انخلا ممکن ہو گا، جب کہ طالبان کو یہ یقین دہانی کرانی ہو گی کہ افغان سرزمین بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے کسی طور پر استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

مزید برآں، طالبان کے لیے لازم ہو گا کہ وہ افغان اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کریں، جس میں افغان حکومت شامل ہو، تاکہ ملک بھر میں مخاصمانہ کارروائیاں مستقل طور پر بند کی جا سکیں، اور انخلا کے بعد افغانستان کی حکمرانی کے لیے اختیارات میں شراکت کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے طے کیا جا سکے۔

امریکہ طالبان مذاکرات کے اجرا کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے، جو زیادہ تر قطر میں ہوئے ہیں۔ پاکستان نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ باغی گروپ تشدد کی کارروائی میں کمی لانے پر رضامند ہے، تاکہ امن عمل میں پیش رفت کی جا سکے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’’ان کوششوں کے نتیجے میں آج ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ طالبان نے تشدد کی کارروائیوں میں کمی کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے‘‘۔

وہ ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں ان کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ اہل کاروں سے ملاقاتیں طے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG