رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان نے امریکی فوج کا ستمبر میں انخلا کا اعلان دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا


فائل فوٹو

طالبان نے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے فوج کا انخلا یکم مئی کے بجائے 11 ستمبر 2021 کو کرنے کے اعلان کو دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

طالبان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال قطر میں ہونے والے امن معاہدے پر اقوامِ متحدہ، کئی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی موجودگی میں دستخط ہوئے تھے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ تمام ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔ اور مقررہ تاریخ یکم مئی تک افغانستان سے تمام افواج کا انخلا کیا جائے۔

طالبان کے پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی چوں کہ امریکہ کر رہا ہے اس لیے مستقبل میں کسی بھی کارروائی کا ذمہ دار امریکہ ہی ہو گا۔

طالبان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل بدھ کو امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے لیے گیارہ ستمبر 2021 کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد طالبان پر دباؤ بڑھے گا اور طالبان کے حامی اور قریب رہنے والے ممالک بھی طالبان پر استنبول کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے دباؤ بڑھائیں گے۔

طالبان واضح کر چکے ہیں کہ جب تک افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا نہیں ہو جاتا تب تک وہ کسی بھی ایسی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے جو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ سازی کرے۔

دوسری جانب امریکہ کے وزیرِ خارجہ ایٹینی بلنکن افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ امریکہ کے صدر کے فوج کے انخلا کے اعلان پر افغان قیادت کو اعتماد میں لیں گے۔

افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ دنیا انہیں امن کا مخالف سمجھے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔

'امریکہ کے لیے پاکستان ابھی بھی اہم ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:06 0:00

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کچھ ضمانتیں چاہیں گے کہ کہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انخلا کی اس ڈیڈ لائن میں مزید اضافہ نہ ہو۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ طالبان اپنے دو مطالبات کے پورا کرنے پر بھی اصرار کریں گے جن میں مزید قیدیوں کی رہائی اور رہنماؤں کے نام اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی بلیک لسٹ سے اخراج شامل ہے۔ ان کے بقول طالبان کہتے آئے ہیں کہ امریکہ نے دوحہ معاہدے کے دوران ان کے یہ دو مطالبات پورے کرنے کی یقین دہائی کرائی تھی جو کہ اب تک پورے نہیں ہوئے۔

افغان امور کے ماہر کا مزید کہنا تھا کہ استنبول کانفرنس پہلے 16 اپریل کو ہونی تھی اب جب اسے 24 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تو منتظمین نے ضرور اس حوالے سے اپنا ہوم ورک کیا ہو گا۔ کیوں کہ طالبان کی عدم موجودگی میں استنبول کانفرنس بے سود ہو گی۔

امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے حوالے سے رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ دوحہ میں کیے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی تو کی ہے کیوں کہ دوحہ معاہدے کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج کو افغانستان سے یکم مئی تک نکلنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں ایک بہتر پہلو یہ بھی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے۔ اور استنبول کانفرنس اور بین الافغان امن مذاکرات میں پیش رفت کی توقع بڑھ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی تصفیے کے بغیر غیر ملکی افواج کے انخلا سے بھی افغانستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے فریقین پر اب ذمہ داریاں زیادہ بڑھ گئی ہیں کہ وہ اپنے معاملات جلد از جلد حل کرنے پر زور دیں۔

بدھ کو واشنگٹن میں امریکہ کے صدر نے افغانستان سے افواج کے انخلا کے لیے 11 ستمبر 2021 کا اعلان کیا ہے۔

افغان امن عمل کی تاریخ پر ایک نظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:32 0:00

صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد نیٹو اتحاد نے بھی افغانستان میں اپنا آپریشن ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد امریکہ نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

امریکی صدر نے انخلا کے اعلان سے قبل افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو بھی اعتماد میں لیا۔ افغان صدر کے مطابق صدر جو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فون کال پر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال کیا۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان امریکہ کے فیصلے کا احترام کرتا ہے۔ وہ امریکہ اور نیٹو اتحاد کے ساتھ مستقبل میں کام جاری رکھیں گے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ کا افغانستان کا دورہ

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے ستمبر میں فوجی انخلا کے اعلان کے کچھ گھنٹوں بعد وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کابل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔

افغانستان کے صدر کے نائب ترجمان محمد امیری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ نے افغان صدر اشرف غنی سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔

افغانستان کی اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کے دفتر نے بھی تصدیق کی کہ وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ان سے ملاقات کی ہے۔

ان دونوں اہم ملاقاتوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب افغان صدر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں صدر بائیڈن کے افغانستان سے ستمبر تک فوج کے انخلا کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔

افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کی فورسز ملک بھر میں سیکیورٹی کے معاملات مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ افغان وزارتِ دفاع نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان فورسز ملک کی سیکیورٹی سنبھالنے کی اہل ہیں۔

'صدر بائیڈن نائن الیون کے باب ہمیشہ کے لیے بند کرنے چاہ رہے ہیں'

مبصرین صدر بائیڈن کے افغانستان سے فوجی انخلا کی پالیسی کو سراہتے ہیں۔ پاکستان کے ایوانِ بالا سینیٹ میں فارن ریلیشنز کی کمیٹی کے چئیرمین مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ امریکہ کے افغانستان میں مزید رہنے سے وہاں کی صورتِ حال پر کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے واضح کیا کہ جب ڈیڑھ لاکھ فورسز افغانستان میں امن نہیں قائم کر پائیں۔ تو محض 10 ہزار فوجی کیا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے صدر بائیڈن نائن الیون کے باب کو 2021 میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے چاہ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر بائیڈن کے انخلا کے اعلان سے ایک روز قبل امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں بھر پور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق امریکہ کے وزیرِ خارجہ نے ممکنہ طور پر پاکستان کے آرمی چیف کو افغانستان سے فوج کے انخلا کے علاوہ بحفاظت انخلا میں تعاون کی درخواست کی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے انخلا میں چار ماہ کی تاخیر سے سیکیورٹی کی صورتِ حال میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر افغانستان میں فریقین حکومت سازی کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تو خانہ جنگی کی صورت میں اس کے اثرات پاکستان پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان پر سویت یونین کے قبضے کے خاتمے کے بعد بہت سارے مبصرین نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ امریکہ نے اس سارے خطے کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا تھا جس کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس دفعہ امریکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہ رہا ہے اور اپنی مستقبل کی حکمتِ عملی میں تمام اتحادیوں کو شریک کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG