رسائی کے لنکس

کابل کی مسجد میں دھماکہ: افغان حکام کے ساتھ ساتھ طالبان کی بھی مذمت


مسجد کے احاطے میں بارودی مواد سے دھماکہ کیا گیا تھا جس میں مسجد کے امام محمد ایاز نیازی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کی ایک مسجد میں دھماکے میں امام ملا ایاز نیازی کی ہلاکت پر جہاں افغان اعلیٰ حکام نے مذمت کی ہے وہاں طالبان کی جانب سے بھی مذمتی بیان سامنے آیا ہے۔

کابل کے گرین زون میں واقع مشہور مسجد وزیر اکبر خان میں منگل کی شام بم دھماکہ ہوا تھا۔ دھماکے میں دو افراد ہلاک جب کہ دو زخمی ہوئے تھے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کے مطابق مسجد میں شام ساڑھے سات بجے اس وقت دھماکہ ہوا جب نمازی مغرب کی نماز ادا کر چکے تھے۔

دھماکے کی شدت سے قریب کی دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جب کہ سیکیورٹی حکام نے مسجد میں نصب ایک اور بم ناکارہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا۔

خیال رہے کہ ایاز نیازی نے اسلامی تعلیمات میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ ان کی رہائش مسجد کے ساتھ واقع عمارت میں تھی۔ نماز کے بعد وہ اپنے گھر واپس جا رہے تھے جب دھماکہ ہوا جس کی زد میں آ کر وہ زخمی ہوئے۔

مسجد وزیر اکبر خان کابل کے انتہائی سیکیورٹی والے اس علاقے میں واقع ہے جہاں کئی ممالک کے سفارت خانے اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے دفاتر ہیں۔

یہ مسجد سفارتی علاقے کے داخلی مقام پر واقع ہے اور اس میں سفارتی علاقے اور باہر، دونوں جانب سے داخل ہوا جا سکتا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مسجد کے امام اور معروف مذہبی اسکالر مولوی محمد ایاز نیازی بھی شامل تھے۔ مولوی نیازی دھماکے میں زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں اسپتال میں دوران علاج چل بسے۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق مولوی ایاز نیازی کابل میں خاصے مشہور تھے۔ ان کے سیاسی خیالات کے حامل وعظ اور بیانات سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ اس مسجد کا رُخ کرتے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان نے اس دھماکے کو گھناؤنا حملہ قرار دیا ہے۔

ابتدائی طور پر حکام نے اس دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیا تھا لیکن بعد ازاں بتایا تھا کہ دھماکہ پہلے سے نصب بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا۔

حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد مسجد کے احاطے میں وضو خانے کے قریب نصب کیا گیا تھا۔

صدر اشرف غنی نے بدھ کو مولوی ایاز نیازی کا آخری دیدار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملا ایاز نیازی کو افغانستان کا ایک روشن خیال اسکالر اور مذہبی رہنما قرار دیا اور حملہ کرنے والوں کو اسلام کے احکامات اور افغان معاشرے کی روایات سے لاعلم قرار دیا۔

انہوں نے طالبان پر بھی زور دیا کہ وہ عید پر کیے جانے والی جنگ بندی کو جاری رکھیں کیوں کہ اس سے عوام کو خوشی ہوئی تھی۔

افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جرائم پیشہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر ایک مذہبی شخصیت کو نشانہ بنایا ہے۔ وہ اس عظیم مذہبی شخصیت کے خیالات کو اپنے شدت پسندانہ نظریے کے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے محمد ایاز نیازی کو قتل کر دیا ہے لیکن وہ ان کے حقیقی مذہبی خیالات کی میراث کو ختم نہیں کر سکتے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی ایاز نیازی کی بم دھماکے میں ہلاکت کی مذمت اور اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب طالبان نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ طالبان مسجد وزیر اکبر خان میں دھماکے اور ملا محمد ایاز نیازی کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں گزشتہ دو ماہ میں 30 سے زائد دھماکے ہوئے ہیں جن میں دیسی ساختہ بم اور سڑک کنارے نصب بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

منگل کو مسجد میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری کسی بھی گروہ یا تنظیم نے قبول نہیں کی تاہم حالیہ دنوں میں افغانستان میں ہونے والے کئی دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش قبول کرتی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG