رسائی کے لنکس

logo-print

افغان قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں طالبان کا وفد کابل پہنچ گیا


ہلمند میں طالبان قید سے رہا ہونے والے قیدی (فائل)

امریکہ کے افغانستان پر حملے اور طالبان کی پسپائی کے بعد یہ پہلی بار ہوا کہ باغی گروپ کا کوئی وفد سرکاری طور پر کابل آیا ہے۔ منگل کو کابل پہنچنے والا یہ گروپ قندھار سے عالمی ریڈ کراس کے طیارے کے ذریعے کابل پہنچا ہے۔

طالبان نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ یہ گروپ قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں تیکنیکی مدد فراہم کرے گا۔

قیدیوں کے اس تبادلے کے تحت باغی ایک ہزار سرکاری قیدیوں کو رہا کریں گے، تاکہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔

یاد رہے 29 فروری کو قطر میں امریکہ نے طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت چودہ ماہ کے اندر امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی اور اس کے جواب میں طالبان یقین دہانی کرائیں گے کہ افغانستان کی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

افغان صدر اشرف غنی کی حکومت اس معاہدے میں فریق نہیں بنی تھی اور ابتدا میں وہ طالبان قیدیوں کو رہا کرنے پر راضی نہیں تھی؛ اور اسی لیے دس مارچ کو ہونے والے امن مذاکرات اب تک نہ ہو سکے۔ بعد میں امریکہ کے اصرار پر غنی نے اکیس رکنی مذاکراتی وفد کے قیام کے اعلان کیا۔

امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اس ٹیم کی تشکیل پر اطمنان اور خوشی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ہمیں بین الافغان مذاکرات کے لیے آگے بڑھنا ہے اور اسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

صدر اشرف غنی کے سیاسی حریف عبدللہ عبدللہ نے بھی مذاکراتی ٹیم کی حمایت کر دی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ جب تک تمام قیدی رہا نہیں ہو جاتے اس وقت تک بین الافغان امن مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے غنی حکومت کی ٹیم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ نا موزوں ٹیم ہے۔

باغی گروپ کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی ٹیم کے بجائے وہ افغانستان کے تمام فریقوں کے ساتھ امن مذاکرات کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG