رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: ڈاکٹروں اور دیگر پروفیشنلز کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ


فیڈرل بی ایریا میں ڈاکٹر فاروق احمد شیخ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ وہ علاقے میں پچھلے 15 سال سے اپنا کلینک چلارہے تھے۔

کراچی میں سیاسی مخالفین اور مختلف جماعتوں کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے بعد پیشہ وار افراد - خاص طور پہ ڈاکٹروں، وکیلوں، پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے تنگ آکر شہر کے بیشتر علاقوں میں کئی کئی عشروں سے اپنے اپنے کلینک چلانے والے کئی ڈاکٹر یا تو گھر بیٹھ گئے ہیں یا پھر انہوں نے بیرون ملک سکونت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق نیا سال شروع ہوئے ابھی ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا کہ کراچی میں چار ڈاکٹر، 20 پولیس اہلکار اور رینجرز کے دو جوان لقمہ اجل بنادیئے گئے۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب فیڈرل بی ایریا میں ڈاکٹر فاروق احمد شیخ کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ وہ علاقے میں پچھلے 15 سال سے اپنا کلینک چلارہے تھے۔ نئے سال کے 20ابتدائی دنوں کے دوران ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ تھا جبکہ سال 2014ء میں 17 ڈاکٹرز ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔

پاکستان میڈیکل ایسی ایشن نے ڈاکٹروں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی حفاظت کے لئے کچھ نہ کیا گیا تو وہ سب ہڑتال پر چلے جائیں گے۔

علاقہ پولیس افسر اطہر ملک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی ہر ممکن حفاظت کے لئے کوششیں جاری ہیں، ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلئے گئے ہیں جبکہ اس حوالے سے مزید سخت کارورائی بھی کی جارہی ہے۔

شہر میں ڈاکٹروں، وکلا، سیکورٹی اہلکاروں اور تاجروں کے ٹارگٹ کلنگ کی وجوہات سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ ”بھتہ خوری اس کی اہم اور بنیادی وجہ ہے۔ “

لیاقت آباد اور نیو کراچی کی حدود میں آنے والے تھانوں میں تعینات کچھ پولیس افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی او اے کو بتایا کہ ”ڈاکٹرز بھتہ خوروں کی نظر میں آسان ٹارگٹ ہیں۔ ڈاکٹرز زیادہ آمدنی والے افراد میں شمار ہوتے ہیں جبکہ کلینک چلانے کے لئے زیادہ سیکورٹی رکھنے کے بھی قائل نہیں ہوتے، اس لئے بھتہ خور انہیں ڈرا دھماکا کرپیسہ وصول کرتے ہیں اور نہ دینے کی صورت میں انہیں نشانہ بنادیا جاتا ہے تاکہ دوسرے انکار سے ڈریں۔“

ڈاکٹرز کی ٹارگٹ کلنگ میں مسلسل اضافے کا ایک بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ بیشتر ڈاکٹرز یا توبیرون ملک منتقل ہوگئے ہیں یا وہ منتقلی کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ کئی ڈاکٹرز ایسے بھی ہیں جو خوف کی وجہ سے گھر بیٹھ گئے ہیں۔

لیاقت آباد کے ایک رہائشی محسن علی نے 'وی او اے' بتایا کہ ان کے علاقے کے متعدد کلینک بند ہوگئے ہیں کیوں کہ ڈاکٹرز امریکہ، برطانیہ یا دبئی شفٹ ہوگئے ہیں۔ ان ڈاکٹرز میں محسن کے فیملی کے ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔

لیاقت آباد کے علاوہ گلبرگ، گلستان جوہر اور گلشن اقبال سمیت کئی دیگر علاقوں سے بھی ڈاکٹرز کے اپنے اپنے کلینک بندکرنے یا انہیں محدود طور چلانے کی اطلاعات ہیں۔

پولیس ذرائع سے ملنے والی کچھ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کے قتل ہونے کی ایک بڑی وجہ فرقہ وارانہ تعصب بھی ہے۔ تقریباً ہر روز ایسی وارداتیں ہوتی ہیں جن میں فرقے کی بنیاد پر ڈاکٹرز کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کم و بیش یہی صورتحال وکلا کے ساتھ بھی ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کو عادی مجرموں کی جانب سے ’بدلے‘ کے طور پر نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

گینگ واراور موبائل یا گاڑی چھیننے جیسے اسٹریٹ کرائم میں تو عام لوگ بھی ٹارگٹ ہورہے ہیں جبکہ کچھ مہینوں سے پولیو رضاکاروں کی حفاظت پر مامور سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ پیر کے روز بنارس میں پیش آنے والا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے۔

XS
SM
MD
LG