رسائی کے لنکس

logo-print

مذاکرات کے باوجود چینی مصنوعات پر ٹیکس برقرار رہے گا: صدر ٹرمپ


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ۔(فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات کے باوجود یکم ستمبر سے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکس نافذ العمل ہو گا۔

جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں گے جس میں فتح امریکہ کی ہو گی۔

امریکہ یکم ستمبر سے 125 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر 15 فی صد اضافی ٹیکس وصول کرنے کا آغاز کرے گا۔ جس کا نفاذ صدر ٹرمپ کے بقول چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے بعد کیا گیا۔

جن چینی مصنوعات پر یکم ستمبر سے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا ان میں گھڑیاں، ٹیلی ویژن سیٹ اور جوتے شامل ہیں۔

دونوں بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال شروع ہونے والی تجارتی جنگ کے بعد سے لے کر اب تک امریکہ 250 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر چکا ہے۔ جس کے باعث امریکہ کے مقامی تاجر منافع میں کمی کا گلہ کر چکے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے منافع میں کمی کو بد انتظامی قرار دیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع کو معاشی ماہرین عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع کو معاشی ماہرین عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔

اپنی ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ منافع میں کمی کا ذمہ دار ٹیکس میں اضافے کو قرار دینا غلط ہے یہ سراسر بدانتظامی کی وجہ سے ہے۔ ان کے بقول امریکہ کی معیشت کو محصولات میں اضافے سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔

صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر چین تجارتی مذاکرات میں پیش رفت چاہتا ہے تو اسے ہانگ کانگ میں مظاہرین کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہو گا۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ دو ماہ سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ ہانگ کانگ پر چین کا کنٹرول ہے اور یہ مظاہرے ملزمان کی چین حوالگی کا بل پارلیمان میں متعارف کروانے کے بعد شروع ہوئے تھے۔

گو کہ حکومت نے یہ بل واپس لے لیا تھا تاہم اس کے باوجود مظاہروں کی شدت میں کمی نہیں آ سکی جس کے بعد چین نے اضافی فورس ہانگ کانگ کے قریب تعینات کر دی تھی۔ جب کہ متعدد جمہوریت پسند کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

صدر شی جن پنگ سے براہ راست رابطے کے سوال پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت چین کے ساتھ رابطے میں ہے۔ تاہم وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ صدر شی سے بات کریں گے یا نہیں۔

امریکہ، چین تجارتی تنازع ہے کیا؟

عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے چین کے تجارتی ماڈل کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ امریکہ کا یہ الزام رہا ہے کہ چین تخلیقی جملہ حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مقامی کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

امریکہ کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ چین امریکی کمپنیوں کو چین میں کاروبار کرنے کے مساوی مواقع فراہم کرتے ہوئے امریکی مصنوعات کی چینی منڈیوں تک رسائی میں سہولت دے۔

چین امریکہ کے ان تحفظات کو مسترد کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارت برابری کی بنیاد پر ہو گی۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کے متعدد دور ہو چکے ہیں تاہم ان میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

چین اور امریکہ کے تجارتی تنازع میں شدت کو ماہرین عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں اور اُنہیں خدشہ ہے کہ اس سے عالمی کساد بازاری جنم لے سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG