رسائی کے لنکس

logo-print

ساتھی مرد کے تشدد کا شکار سب سے زیادہ لڑکیاں برطانیہ میں ہیں: سروے


مطالعاتی جائزے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں ہر 5 میں سے 2 لڑکیوں پر جنسی تشدد ہوا جن میں سے کچھ لڑکیوں کی عمریں تیرہ برس تھیں۔

ایک بین الاقوامی مطالعے کے نتیجے میں بتایا گیا ہے کہ لڑکیوں کے خلاف جنسی، جسمانی اور نفسیاتی تشدد دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ نئی جائزہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں خواتین کے خلاف تشدد عام ہے اور برطانیہ میں رہنے والی نوجوان لڑکیاں یورپ کے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔

مطالعاتی جائزے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ میں ہر 5 میں سے 2 لڑکیوں پر جنسی تشدد ہوا جن میں سے کچھ لڑکیوں کی عمریں تیرہ برس تھیں جنھیں تعلقات میں رہتے ہوئے مرد ساتھی کی طرف سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی روزنامہ ڈیلی میل کے مطابق یورپی کمیشن کی حمایت سے منعقدہ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ عورتوں پر تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں برطانیہ یورپی ممالک کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

برسٹل یونیورسٹی اور لنکا شائر یونیورسٹی کے محققین کے مطالعے سے ظاہر ہوا کہ برطانیہ میں 40 فیصد لڑکیاں ساتھی مردوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں جن میں سے ہرپانچ میں سے دو لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں اور ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس مطالعے میں برطانیہ سے 1,001 نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا جبکہ ناروے، قبرص اور اٹلی سے 3,500 نوجوانوں سے سوالنامے کے ذریعے جنسی واقعات اور رویوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔

تحقیق سے ظاہر ہوا کہ برطانیہ میں لڑکیوں پر جنسی تشدد اور جذباتی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی رپورٹ یورپی ملکوں کے مقابلے میں زیادہ تھیں جن میں سے 48 فیصد لڑکیوں کو مرد ساتھی کے ساتھ تعلقات میں جذباتی طور پر یا آن لائن زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

دریں اثناء فون پرنازیبا تصاویر بھیجنے اور فحش ویڈیوز کے تبادلے کی شرح بھی برطانیہ میں دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔

لگ بھگ 48 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ انھوں نے فون پر نازیبا پیغامات وصول کئے ہیں اسی طرح ہر پانچ میں سے دو لڑکیوں نے ایسے پیغامات بھیجنے کا بھی اعتراف کیا جبکہ 27 فیصد نے کہا کہ انھیں ساتھی کی طرف سے دباؤ میں آکر نازیبا پیغامات کو بھجنا پڑا تھا ۔

برسٹل یونیورسٹی میں پالیسی اسٹڈیز سے وابستہ تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر کرسٹین بارٹر نے تشدد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ بہت سے ملکوں میں اس مسئلے کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

محقق کرسٹین بارٹر نے کہا کہ مطالعے سے پتا چلا ہے کہ نوجوانوں میں فحش ویڈیوز دیکھنا عام ہے اور اس وجہ سے عورتوں کے لیے ان کا رویہ غلط ہے۔ سروے میں شامل 39 فیصد نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ وہ باقاعدگی سے فحش ویڈیوز دیکھتے ہیں اور 18 فیصد نے بتایا کہ ایک مرد کے لیے عورت کو اس وقت نشانہ بنانا قابل قبول سمجھا جاتا ہے جب وہ اس کے ساتھ بے وفائی کرتی ہے۔

محققین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں میں صحت مند تعلقات کو سمجھنے کے حوالے سے کارروائی کرے۔ اس ضمن میں چائلڈ سیفٹی کی سربراہ کلئیر للی نے کہا کہ ایک متوازن نصاب کے حصے کے طور پر اسکولوں میں جنسی استحصال اور لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے خلاف تشدد جیسے موضوعات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG