رسائی کے لنکس

پاک امریکہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ دوبارہ شروع ہونا چاہیے: تہمینہ جنجوعہ


پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے کہا ہے کہ ’’دباؤ ڈال کر پاکستان کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جو بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے وہ قومی مفاد کے مطابق ہوں گے‘‘۔

واشنگٹن کے دورے پر آئی ہوئی پاکستانی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات پر زور دے رہا ہے کہ تعطل کا شکار اسٹریٹجک ڈائیلاگ فوری طوری پر بحال کیا جائے، تاکہ دونوں جانب بداعتمادی کی فضا کا خاتمہ ہو اور پاک امریکہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں میڈیا بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ وہ امریکی حکام کی دعوت پر یہاں آئی ہیں اور انھوں نے تھنک ٹینک سے خطاب میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ پاک امریکہ مکالمہ دوبارہ شروع کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پانچ مختلف شعبوں میں بات چیت کے لئے دونوں ممالک کے درمیان ورکنگ گروپ کا اجلاس کئی برس سے تعطل کا شکار ہے، جسے بحال ہونا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اقتصادی امداد کی بندش اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان پر پابندی میں امریکہ کے کردار کو سمجھتے ہیں اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات اپنے قومی مفاد میں ہی اٹھائے گا۔ ہم نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم پر قائم ہیں‘‘۔

دہشت گردوں سے نمٹنے کے معاملے پر امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ مزید اقدام کی ضرورت ہے۔ اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ’’اسلام آباد کی جانب سے اس سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات موثر اور بلا امتیاز نہیں ہیں‘‘۔

ایک سوال پر تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر منجمنٹ پر بات چیت جاری ہے۔ توقع ہے کہ یہ معاملہ جلد طے ہوجائے گا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کراس بارڈر سرگرمیوں کی شکایت کا خاتمہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان کو بھی شکایت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال ہو رہی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کے لئے تیار ہے۔ لیکن پاکستان سے اس کی صلاحیت سے زیادہ توقع نہ کی جائے‘‘۔

پاکستانی سکریٹری خارجہ نے کہا کہ ’’افغان طالبان سے کئی ایک ممالک بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ اب بھی ملک کا نصف سے زائد حصہ ان کے کنڑول میں ہے‘‘۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف علما کا ایک متفقہ فتوا جاری کیا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان افغان معاملے میں مداخلت کا قائل نہیں۔ ہمارا اصولی موقف یہ ہے کہ افغانوں کو اپنے معاملات خود طے کرنے چاہئیں؛ اور پاکستان افغان قیادت میں طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور مفاہمت کا حامی ہے‘‘۔

پاکستانی سکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان پر دباؤ ڈال کر ایسے اقدامات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان جو بھی اقدامات اٹھائے گا وہ اس کے قومی مفاد میں ہوگا‘‘۔

پاکستانی سیکریٹری خارجہ امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کی مشیر برائے جنوبی ایشیا لیزا کرٹس کی دعوت پر واشنگٹن کا دورہ کر رہی ہیں؛ جہاں وہ جنوبی و وسط ایشیاء کے لئے امریکی محکمہ خارجہ کی ڈپٹی پرنسپل سیکریٹری ایلس ویلز سمیت مختلف اعلیٰ حکام سے ملاقات کر رہی ہیں۔ انھوں نے یہاں امریکی اور بین الااقوامی میڈیا اور تھنک ٹینک سے بھی خطاب کیا اور پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس سے قبل، دورہ پاکستان سے واپسی پر، ایلس ویلز کہہ چکی ہیں کہ ’’پاکستان کے رویے میں کوئی واضح تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG