رسائی کے لنکس

منحرف کردوں کو غیر مسلح کرنے کیلئے ایران، عراق معاہدہ کتنا اہم ؟


 کرد پی جے اے کے کے لیڈر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ۔ فوٹو اے ایف پی۔
کرد پی جے اے کے کے لیڈر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ۔ فوٹو اے ایف پی۔

ایران اور عراق کے حکام نے پیر کو بتایا کہ شمالی عراق میں مقیم ایرانی کرد منحرف گروپوں کے ارکان کو غیر مسلح کرنے اور ان کو ان کے موجودہ اڈوں سےدوسرے مقامات پر منتقل کرنے کا معاہدہ طے کر لیاہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے پیر کے روز ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ عراقی حکومت نے اتفاق کیا ہے کہ 19 ستمبر تک عراق کی سرزمین پر موجود مسلح دہشت گرد گروپوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد انہیں ان کے فوجی اڈوں سے نکال کرعراقی حکومت کی طرف سے نامزد کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ ‘‘

ترجمان کنعانی نے مزید کہا کہ اس ڈیڈ لائن میں توسیع نہیں کی جائے گی کیونکہ جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ’’مکمل طور پر دوستانہ اور گرمجوش ہیں تو ایسے میں عراق کے شمالی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی باہمی تعلقات پر ناخوشگوار اثر چھوڑتی ہے۔‘‘

ایران ملک میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی یا کے ڈی پی آئی کے خلاف وقتاً فوقتاً حملے کرتا رہا ہےاور اس کے ساتھ اس نے ایران کی سرحد کے قریب عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں مقیم دیگر ایرانی کرد مخالف گروپوں کوبھی نشانہ بنایا ہے۔

ایک کرد پیش مرگا جنگجو۔ فوٹو اے ایف پی
ایک کرد پیش مرگا جنگجو۔ فوٹو اے ایف پی

ایک عراقی حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنےکے مجاز نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں اوریہ بھی بتایا کہ بغداد میں مرکزی حکومت گروپوں کو منتقل کرنے کے لیے ’’تیزی سے کام کر رہی ہے۔‘‘اور اس کے لئے اربیل اور سلیمانیہ میں کرد علاقائی حکومت کے حکام کی منظوری بھی حاصل کی گئی ہے۔

انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ غیر مسلح عسکریت پسندوں کو کس جگہ منتقل کیا جائے گالیکن کہا کہ یہ عراقی کرد علاقے کی حدود ہی میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس رہنے کے لیے ایک کیمپ ہوگا لیکن ان کے پاس ہتھیارنہیں ہوں گے۔

عراق میں مختلف ایران مخالف گروہ عراقی کردوں کی دو اہم جماعتوں میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ منسلک ہیں ۔کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اربیل میں اقتدار رکھنے والی جماعت سے وابستگی رکھتی ہے جبکہ پیٹریاٹک یونین آف کردستان پارٹی کا مضبوط ٹھکانہ سلیمانیہ میں ہے ۔ ان دونوں گروپوں کے درمیان نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ بلکہ ایران کے ساتھ بھی اختلافات موجود ہیں ۔

عراقی اہلکار نے کہا کہ ’’پہلے سلیمانیہ اربیل پر ان گروپوں کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگاتے تھے جبکہ اربیل سلیمانیہ پر ان کے ساتھ وابستگی کا الزام لگاتے تھے لیکن ایک مرکزی حکومت کے طور پر ہم نے ان کو دوسری جگہ منتقل کرنے پر اتفاق کر لیا۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ 19 ستمبر تک اس معاہدے کی پاسداری ہو جائے۔‘‘

عراقی وزیر اعظم السوڈانی
عراقی وزیر اعظم السوڈانی

عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی گزشتہ سال ایرانی حمایت یافتہ جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے اور انہیں ایران کے قریب سمجھا جاتا ہے حالانکہ انہوں نے امریکہ اور ترکی کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔

السوڈانی کے ترجمان ہشام الریکابی نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نے ’’ایک سے زیادہ مواقع پر حکومت کی جانب سے عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے لانچنگ پیڈ نہ بننے دینے کی بات کی ہے۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ عسکریت پسند گروپوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے علاوہ ایران کے ساتھ معاہدے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ عراق سرحد پار سے ’’عسکریت پسندوں کی دراندازی‘‘ کو روکنے کے لیے سرحدی محافظ تعینات کرے گا اور قانون کے مطابق گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے مطلوب مشتبہ افراد کو ایران کے حوالے کرے گا۔ ‘‘

(اس رپورٹ کی تفصیل ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئی ہے۔)

فورم

XS
SM
MD
LG