رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں تحریکِ لبیک کی انتخابی مہم کا آغاز


تحریک لبیک نے بھی عام انتخابات میں کامیابی کے لئے کراچی کا رخ کرلیا ہے۔ تحریک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا کہنا ہے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لاکر بیرونی قرضے اتا ریں گے اور ملک میں وی آئی پی کلچر اور سود کا خاتمہ کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ختم نبوت کے معاملے پر مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف دھرنے کے بعد اب تحریک لبیک یارسول اللہ نے ملک میں عام انتخابات میں کامیابی کی بھی بھرپور تیاری شروع کردی ہے۔

تحریک کے قائد علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں اتوار کے روز کراچی میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں لوگوں کی کافی بڑی تعداد شریک تھی۔ ریلی شہر کی اہم شارع فیصل سے ہوتی ہوئی مزار قاعد اعظم پر رات گئے اختتام پذیر ہوئی۔

علامہ خادم رضوی نے ریلی کے شرکاء سے کئی مقامات پر خطاب بھی کیا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ 25جولائی کو ان کی جماعت پورے ملک سے کامیابی حاصل کرکے لوگوں کو حیران کردے گی۔

امیر تحریک نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مسلسل دو بار اقتدار میں آنے والوں اور ہر حکومت میں شامل رہنے والی جماعت نے کراچی اور سندھ کو تباہ اور عوام کو زندہ درگور کر دیاہے۔ ان کے مطابق حکمرانوں نے اپنے عہد اقتدار میں تعلیم صحت، آبپاشی، محنت، تمام سرکاری اداروں کو کرپشن اور کمیشن کی نذر کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے عوام نے اپنے ووٹ کی مقدس امانت تحریک لبیک پاکستان کے دیانت دار نمائندوں کے سپرد کی تو کراچی میں امن و امان اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور اندرون سندھ عوام کی بدحالی کے خاتمے کے لئے تحریک لبیک پاکستان اپنے تھنک ٹینک کی تجاویز کے مطابق مکمل طور پر فلاحی منصوبہ تشکیل دے گی جس کے تحت شہروں میں صنعت وتجارت کو اور دیہات میں زرعی اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں انقلابی ترقی لائی جائے گی۔

علامہ خادم حسین رضوی نے مزید کہا کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو ملک میں واپس لا کر پاکستان کے تمام قرضے اتارنے ہیں اور ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کر کے پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہے۔

علامہ خادم حسین رضوی سندھ کے دورے پر کراچی پہنچے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وہ حیدرآباد، میرپورخاص اور نوابشاہ بھی جائیں گے جبکہ کراچی میں وہ اس دوران خواتین کنونشن اور علماء و مشائخ کنونشن سے بھی خطاب کریں گے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں آباد ہیں جو تحریک لبیک کا اصل ٹارگٹ ہیں۔ اس سے قبل جمعیت علمائے پاکستان اور دیگر مذہبی جماعتیں بھی کراچی اور حیدرآباد میں کافی اثر و رسوخ رکھتی رہی ہیں۔

تحریک لبیک نے کراچی سے قومی و صوبائی اسمبلی کی تمام 65 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ اگرچہ یہ امیدوار کوئی نامی گرامی چہرے یا الیکٹیبلز تو نہیں لیکن اس کے باوجود اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ کراچی میں برسر پیکار دیگر اہم سیاسی جماعتوں کے ووٹ ضرور کم کرسکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG