رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں کمی آئی، سرکاری رپورٹ

  • شمیم شاہد

فائل

رپورٹ کے مطابق اغوا برائے تعاون میں 97 فی صد، اہدادی قتل کی وارداتوں میں 97 فی صد اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں 95 فی صد آئی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس فورس کو غیر جانبدار اور خود مختار بنانے اور تمام سکیورٹی اداروں کے مابین تعاو ن کے نظام کو بہتر بنانے سے صوبے میں امن و امان کی حالت بہتر ہوئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

لیکن حزبِ اختلاف میں شامل جماعتوں اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر حکومت کی پالیسیوں کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں کمی تو آئی ہے لیکن دہشت گرد اب بھی موجود ہیں اور وہ کسی بھی وقت منظم انداز میں اپنی سرگرمیاں شروع کر سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے محکمۂ انسداد دہشت گردی نے رواں سال کے پہلے سات مہینوں کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پچھلے 10 برسوں کی نسبت اس سال دہشت گردی کے واقعات میں 70 فی صد کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اغوا برائے تعاون میں 97 فی صد، اہدادی قتل کی وارداتوں میں 97 فی صد اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں 95 فی صد آئی ہے۔

رپورٹ میں دیگر جرائم میں بھی کئی گنا کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سابق صوبائی وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکا کے ساتھ گفتگو میں اس بات سے اتفاق کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن ان کے بقول اس کی اصل وجہ وفاقی سطح پر حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف عسکری قیادت نے ضربِ عضب کے نام سے فوجی کاروائی کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دہشت گر د ختم ہوگئے ہیں۔

میاں افتخار نے الزام عائد کیا کہ تحریکِ انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت دہشت گرودں سے ملی ہوئی ہے اور وہ ان کے بقول دہشت گرد وں کے سرپرست مولانا سمیع الحق کو سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ادائیگی کرتے ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔

تجزیہ کار اور قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم زر علی خان آفریدی نے بھی میاں افتخار حسین کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تو ختم ہوئے ہیں مگر دہشت گرد ابھی تک موجود ہیں۔

انہوں نے بھی صوبائی حکومت کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام کے ایک دھڑے کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو دی جانے والی رقم کا ذکر کرتے ہوئے اس پر اعتراض کیا۔

لیکن خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے مشیر اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے ا یک طرف پولیس فور س کو غیر جانبدار بنایا ہے اور دوسری طرف تمام تر سکیورٹی اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کا ایک بہترین نظام قائم کر دیاہے جس کی وجہ سے دہشت گردی اور دیگر واقعات میں کمی آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG