رسائی کے لنکس

logo-print

علی عونی حرزی دہشت گرد قرار، امریکہ میں اثاثے منجمد


اب کوئی بھی امریکی علی عونی حرزی کے ساتھ مالی لین دین نہیں کر سکتا، جب کہ علی عونی حرزی کی امریکہ میں ساری ملکیت اور مفادات منجمد کر دی گئی ہیں؛ جب کہ اُن کے امریکہ میں داخل ہونے یا ملکیت رکھنے یا امریکی افراد کی تحویل میں دینے پر پابندی ہوگی

امریکی محکمہٴخارجہ نے علی عونی حرزی کو خصوصی عالمی دہشت گرد قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ اُن کے خلاف انتظامی حکم نامے 13224 کے تحت اقدام کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردوں؛ اور شدت پسندی اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو حمایت فراہم کرنے والوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

یہ بات محکمہٴخارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک اخباری بیان میں کہی گئی ہے۔

دہشت گرد قرار دیے جانے کے اثرات یہ مرتب ہوں گے کہ اب کوئی بھی امریکی علی عونی حرزی کے ساتھ مالی لین دین نہیں کر سکتا، جب کہ علی عونی حرزی کی امریکہ میں ساری ملکیت اور مفادات منجمد کر دی گئی ہیں؛ جب کہ اُن کے امریکہ میں داخل ہونے یا ملکیت رکھنے یا امریکی افراد کی تحویل میں دینے پر پابندی ہوگی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے القاعدہ پر1989 ءکی قرارداد نمبر 1267 کی فہرست کی رو سے تعزیرات لگائی گئیں تھیں، جن میں تمام رکن ملکوں کو علی عونی حزری کےاثاثے منجمد کرنے، سفری پابندیاں لگانے اور اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے کہا گیا تھا۔

شام میں مقیم تیونس کے شہری، علی عونی حزی نے سنہ 2011 میں تیونیسیا کی دہشت گرد تنظیم، ’انصار الشریعہ‘ (اے اے ایس۔ٹی) میں شمولیت اختیار کی اور وہ رضاکار بھرتی کرنے،’اے اے ایس ۔ٹی‘ کے جنگجو ؤں کو شام کے سفر کی سہولتیں فراہم کرنے اور ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد تیونس اسمگل کرنے کے حوالے سے ایک تشہیری مجرم کا درجہ رکھتا ہے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے 13 جنوری، 2014ء میں ’اے اے ایس۔ٹی‘ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) قرار دیا تھا؛ جب کہ 23 ستمبر، 2014ء میں اسے باضابطہ طور پر القاعدہ کی تعزیرات کی فہرست کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG