رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ: بچوں کے ریسکیو میں مصروف غوطہ خور ہلاک


ریسکیو ٹیم کے غیر ملکی اہلکار غار میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ریسکیو ٹیم کے غیر ملکی اہلکار غار میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ اہلکار جمعرات کی رات غار کے اندر ایک موڑ پر آکسیجن ٹینک رکھنے گیا تھا لیکن واپسی پر خود اس کے اپنے ٹینک کی آکسیجن ختم ہوگئی جس کے باعث وہ چل بسا۔

تھائی لینڈ کے ایک غار میں پھنسے بچوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ٹیم میں شامل ایک مقامی غوطہ خور آکسیجن ختم ہونے کے باعث ہلاک ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا غوطہ خور تھائی فوج کے نیوی سیلز دستے کا سابق اہلکار تھا جس کی شناخت سمارن پونان کے نام سے ہوئی ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ اہلکار جمعرات کی رات غار کے اندر ایک موڑ پر آکسیجن ٹینک رکھنے گیا تھا لیکن واپسی پر خود اس کے اپنے ٹینک کی آکسیجن ختم ہوگئی جس کے باعث وہ چل بسا۔

تھائی حکام اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں گزشتہ چار دن سے غار میں پھنسے انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے 12 کھلاڑیوں اور ان کے کوچ کو نکالنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اسی مقصد کے لیے غار کے اندر ان راستوں پر جگہ جگہ آکسیجن ٹینک رکھے جارہے ہیں جہاں سے بچوں کو نکالا جاسکتا ہے۔

تصویر میں موجود نقشے میں وہ مقام دیکھا جاسکتا ہے جہاں بچے پھنسے ہوئے ہیں۔
تصویر میں موجود نقشے میں وہ مقام دیکھا جاسکتا ہے جہاں بچے پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اور کیچڑ سے بھرے غار میں سے بچوں کو نکالنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بچوں کے ریسکیو کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بین الاقوامی آپریشن کے دوران کسی امدادی اہلکار کی یہ پہلی ہلاکت ہے جس سے اس آپریشن کی دشواری کا اندازہ ہوتا ہے۔

غار میں پھنسے ان 12 بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں جو تمام انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے رکن ہیں۔

یہ بچے اپنے 25 سالہ کوچ کے ہمراہ 23 جون کو فٹ بال میچ کی پریکٹس کے بعد تھام لوانگ نامی غاروں کے سلسلے کی سیر کو گئے تھے لیکن علاقے میں ہونے والی طوفانی بارش اور سیلاب کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔

کئی کلومیٹر طویل غاروں کا یہ سلسلہ میانمار کے ساتھ واقع تھائی لینڈ کی شمالی سرحد پر ایک جنگل میں واقع ہے۔

تھائی فوج کے ماہر غوطہ خور اور غیر ملکی ٹیموں کے ارکان غار میں داخل ہو رہے ہیں۔
تھائی فوج کے ماہر غوطہ خور اور غیر ملکی ٹیموں کے ارکان غار میں داخل ہو رہے ہیں۔

بچوں کے لاپتا ہونے کے بعد ان کی تلاش کی کوششیں شروع کی گئی تھیں جس میں تھائی لینڈ کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، چین اور فلپائن کے ماہرین بھی شریک ہیں۔

دس روز کی مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر برطانوی غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے پیر کو بچوں کا سراغ لگا لیا تھا۔

تھائی حکام کے مطابق یہ بچے اور ان کے کوچ غار کے دہانے سے چار کلومیٹر اندر ایک چٹان پر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں وہیں طبی امداد اور خوراک پہنچائی جارہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ غار سے واپسی کا راستہ انتہائی دشوار گزار اور رکاوٹوں سے پر ہے جسے کم از کم پانچ گھنٹوں تک گہرے اور دلدلی پانی میں مسلسل تیر کر ہی عبور کیا جاسکتا ہے۔

لیکن غار میں پھنسے بچوں میں سے بیشتر کو غوطہ خوری تو دور کی بات تیرنا بھی نہیں آتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو غار ہی میں غوطہ خوری اور تیراکی کی تربیت دی جارہی ہے جسے مکمل ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ریسکیو اہلکار پمپوں کے ذریعے بھی مسلسل غار سے پانی نکال رہے ہیں۔
ریسکیو اہلکار پمپوں کے ذریعے بھی مسلسل غار سے پانی نکال رہے ہیں۔

بچوں کے ریسکیو مشن میں شریک آسٹریلین ٹیم کے کیپٹن ایلن وارلڈ نے رواں ہفتے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بچوں کو نکالنے کا پورا آپریشن تاریکی اور گدلے پانی میں انجام پائے گا۔

ایلن وارلڈ کا کہنا تھا کہ اس عمل کے دوران بچے کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے اور سب سے مشکل عمل اس ریسکیو مشن کے دوران بچوں کو پرسکون رکھنا اور گھبراہٹ سے بچانا ہوگا۔

تھام لوانگ نامی غاروں کا یہ سلسلہ گہرائی، بھول بھلیوں اور خطرناک ہونے کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے اور مقامی حکام نے وہاں یہ انتباہی پیغام بھی درج کر رکھا ہے کہ سیاح جولائی سے نومبر تک جاری رہنے والی بارشوں کے دوران ان غاروں سے دور رہیں۔

امدادی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ماہر غوطہ خور بچوں کو ایک، ایک کرکے غار سے نکال سکتے ہیں لیکن اس کے لیے خود بچوں کو غوطہ خوری کا ماہر ہونا ضروری ہے۔

ریسکیو مشن میں شریک سیکڑوں اہلکار دن کے 24 گھنٹے مصروف رہتے ہیں۔
ریسکیو مشن میں شریک سیکڑوں اہلکار دن کے 24 گھنٹے مصروف رہتے ہیں۔

امدادی اہلکار مسلسل غار وں کے اس سلسلے سے پمپوں کے ذریعے بھی پانی باہر نکال رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اس وقت 16 لاکھ لیٹر فی گھنٹہ کی مقدار سے پانی باہر نکالا جارہا ہے اور پمپنگ شروع ہونے کے بعد سے غار میں پانی کی مقدار صرف 40 سینٹی میٹر کم ہوئی ہے۔

لیکن علاقے میں مزید بارش کا بھی امکان ہے جس سے بچوں کو نکالنے کا آپریشن مزید دشواری کا شکار ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG