رسائی کے لنکس

logo-print

تھائی لینڈ: مظاہرین کی انتخابی رجسٹریشن روکنے کی ناکام کوشش


حکومت مخالف مظاہرین انتخابات سے قبل اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ نگران وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد قومی اصلاحاتی کونسل تشکیل دی جائے گی۔

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف ہزاروں مظاہرین نے پیر کو بنکاک میں الیکشن رجسٹریشن سینٹر جانے والے راستوں کو بند کر دیا جو کہ آئندہ عام انتخابات کے لیے جماعتوں کو اندارج کے اس عمل سے روکنے کی ایک کوشش تھی۔

لیکن بعض جماعتوں کے کارکنان پیر کو علی الصبح مظاہرین کے پہنچنے سے پہلے ہی رجسٹریشن سنٹر میں داخل ہوگئے تھے۔ جو لوگ مظاہرین کی طرف سے راستے بند کرنے کی وجہ یہاں تک نہیں پہنچ سکے ان کے لیے قریبی پولیس اسٹیشن میں رجسٹریشن کا انتظام کر دیا گیا۔

مظاہرین کے ایک رہنما سیتھپ تھاؤگسوبان نے دو فروری کو ہونے والے انتخابات میں خلل ڈالنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے مظاہرین کو تھائی جیپنیز اسٹیڈیم کی طرف جانے والے راستے بند کرنے کے لیے متحرک کیا۔

اس اسٹیڈیم میں پیر سے جمعہ تک انتخابات کے لیے رجسٹریشن کی جانی ہے۔

وزیراعظم ینگلک شیناواترا نے ملک میں سیاسی بدامنی اور مظاہروں کو ختم کرنے کے لیے نو دسمبر کو پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے انتخابات کا اعلان کیا تھا۔

ینگلک کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد ایک قومی اصلاحاتی کونسل تشکیل دی جاسکتی ہے جو بڑے پیمانے پر اصلاحات کرے۔ لیکن مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اصلاحات انتخابات سے قبل کی جائیں۔

ملک میں حکومت مخالف مظاہرے کئی ہفتوں قبل اس وقت شروع ہوئے جب حکومت نے جلاوطن سابق وزیراعظم تھاکسن شیناواترا کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دینے اور اُنھیں بدعنوانی کے مقدمے میں دی جانے والی سزا سے استثنیٰ کے لیے ایک مسودہ قانون پارلیمان میں پیش کیا۔

سینٹ نے اس مسودے کو مسترد کر دیا تھا۔ تھاکسن، ینگلک شیناواترا کے بھائی ہیں۔

اتوار کو بھی ہزاروں مظاہرین بنکاک میں جمع ہوئے اور نگران وزیراعظم ینگلک سے انتخابات سے قبل مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

حزب مخالف کی ایک مرکزی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی نے یہ کہہ کر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا کہ یہ اس سے قبل اصلاحات کی جائیں۔
XS
SM
MD
LG