رسائی کے لنکس

تھرپارکر کے مندر میں توڑ پھوڑ کے الزام میں 4 افراد گرفتار


سندھ پولیس کے مطابق چھاچھرو پولیس نے مندر کی توڑ پھوڑ میں ملوث چار نو عمر ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے شامل ہیں۔ (فائل فوٹو)

سندھ پولیس نے تھرپارکر میں مندر کو نقصان پہنچانے کے الزام میں چار نو عمر افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے کہ اس کی وجہ شرارت تھی یا سوچی سمجھی سازش کے تحت مندر میں مورتیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو کے گاؤں پریمو چارن میں اتوار کو پجاری وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں رکھی گئی مورتیوں کو مسخ جب کہ بعض دیواروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

مندر کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔

ترجمان سندھ پولیس کے مطابق چھاچھرو پولیس نے مندر کی توڑ پھوڑ میں ملوث چار نو عمر ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے شامل ہیں۔ اور ان تمام کا تعلق چھاچھرو کے نزدیکی گاؤں علن آباد سے ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے اقرار جرم کیا ہے تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ پتا لگایا جائے کہ اس کے پیچھے کیا محرکات تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے انسانی حقوق ویر جی کوہلی کا کہنا ہے کہ حکومت ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے جنہوں نے یہ گھناؤنی حرکت کی۔

اُن کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ مندر بند رہتا تھا۔ لیکن جب اتوار کے روز کچھ افراد وہاں پہنچے تو انہیں پتا چلا کہ مورتیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

ان کے بقول، "تھرپارکر میں ہندو اور مسلمان کمیونیٹیز مل جل کر رہتی ہیں اور ایسے واقعات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں لیکن اس عمل کا مقصد ہندو کمیونٹی کو اشتعال دلانا ہے۔"

مسلم لیگ ن سندھ کے اقلیتی ونگ کے صدر اور رکن قومی اسمبلی کھیل داس کوہستانی نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کا مقصد ملک کا بیرونی دنیا میں تاثر خراب کرنا ہے۔ ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں لیکن ذمہ داران کو قرار واقعی سزا اب تک نہ ملنے کے باعث ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

کھیل داس کوہستانی کے مطابق تھرپارکر میں مندر پر حملے کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے سے متنفر کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

پاکستان میں صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ تعداد میں ہندو دھرم کے ماننے والے مقیم ہیں جب کہ اسی صوبے سے بعض عام نشستوں پر بھی ہندو اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

صوبے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران مندر پر حملے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گھوٹکی میں بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جب مبینہ طور پر پیغمبر اسلام کی بے حرمتی پر رد عمل کے طور پر مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ سندھ کے کئی علاقوں میں جبری تبدیلی مذہب کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتی برادری کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتی ہے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون فوری حرکت میں آتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG