رسائی کے لنکس

logo-print

کیلیفورنیا کے اسکولوں میں ’دی فالٹ ان آوور اسٹارز‘ پر پابندی


’دی فالٹ ان آوور اسٹارز‘ پر بننے والی فلم نے ہالی ووڈ میں رواں سال بہت اچھا بزنس کیا تھا، جبکہ اس ناول کو سب سے زیادہ فروخت ہونے ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔۔۔پھر یہ پابندی کیوں لگی!

کراچی ۔۔۔ ہالی وڈ میں رواں سال کے دوران جن چند فلموں نے اچھا بزنس کیا ان میں ’دی فالٹ ان آوور اسٹارز‘ بھی شامل ہے۔ تاہم، ریاست کیلیفورنیا کے اسکولوں میں اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

’دی فالٹ ان آوور اسٹارز‘ جان گرین کے اسی عنوان سے لکھے گئے ناول پر مشتمل ہے۔ اس ناول کی خاص بات یہ ہے کہ اسے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناول کا اعزاز حاصل ہے۔ اس لئے، جیسے ہی پابندی کی خبر آئی، امریکی میگزین ’وینٹی فیئر‘ سمیت متعدد اخبارات اور جرائد نے اسے نمایاں کوریج دی۔

دراصل کیلی فورنیا کے ریورسائیڈ یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ کے مڈل اسکولز میں ناول پر پابندی ایک بچے کی والدہ کی اس شکایت کے بعد عائد کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ کہ ناول کا پلاٹ مایوس کن ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ بچوں کے لئے مناسب نہیں۔

بچے کی والدہ کیرن کروگر کی درخواست پر باقاعدہ ووٹنگ ہوئی اور ناول کے خلاف 6 جبکہ حق میں 1 ووٹ آیا اور یوں کیرن۔۔ اسکول کی پرنسپل، والدین اور ٹیچرز کی کمیٹی و لائبریرین کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئیں کہ ناول کو مڈل اسکولز کی لائبریریوں سے ہٹا دیا جائے، کیونکہ کہ’د ی فالٹ ان آوور اسٹارز‘ 11 سے 13 سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے ٹھیک نہیں۔

’دی فالٹ ان آوور اسٹارز‘ کی کہانی ایک مہلک مرض میں مبتلا نوجوان لڑکے اور لڑکی کے گرد گھومتی ہے، جو ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

ناول پر پابندی کے حوالے سے طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے جان گرین نے کہا، ’میں پابندی پر خوش بھی ہوں اور اداس بھی۔ خوش اس لئے کہ اب ریور سائیڈ کیلی فورنیا کے نوجوانوں کو کبھی موت کا احساس نہیں ہوگا۔ کیونکہ، وہ میری کتاب نہیں پڑھیں گے جو ان کے حق میں اچھی بات ہے ۔۔اور اداس اس لئے ہوں کہ میں وہاں کے بچوں کو بتانا چاہتا تھا کہ انسان مرجاتے ہیں۔ میں اس ناول کے ذریعے ان کے کبھی نہ مرنے یا امر ہونے کے خیالات کو بدلنا چاہتا تھا۔‘

XS
SM
MD
LG