رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف میں پھر اختلافات، وجوہات کیا ہیں؟


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے رہنماؤں کے میں اختلافات جولائی 2018 کے انتخابات کے بعد وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کے حصول پر شروع ہوئے تھے۔ البتہ صوبائی سطح پر اس وقت دو واضح گروہ ایک دوسرے کے مدِ مقابل سامنے آئے تھے جب 26 جنوری 2020 کو تین اہم صوبائی وزرا کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا تھا۔

ان تین وزرا کو وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور وزیرِ اعلیٰ محمود خان سے اختلافات کی بنیاد بنا کر وزارتوں سے الگ کیا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں ان تینوں وزرا کو دوبارہ کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کو ایک ہی دن میں وزیرِ اعلیٰ کے تین مشیروں نے عہدوں سے مستعفی ہوکر محمود خان کو اپنے استعفے ارسال کیے ہیں۔ مستعفی ہونے والوں میں دو منتخب ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ ان استعفوں کے ساتھ ہی تحریک انصاف میں اختلافات کی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں۔

مستعفی ہونے والے تینوں مشیروں بالخصوص دو منتخب ارکانِ اسمبلی نے ذاتی وجوہات کو جواز بنا کر استعفے دیے ہیں۔ البتہ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو مختلف وجوہات، جن میں خراب کارکردگی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مبینہ طور پر بدعنوانی شامل ہے، کی بنیاد پر عہدے خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

دو مشیروں کے بعد کئی ایک اہم صوبائی وزرا بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کو وزیرِ اعظم عمران خان کے مشورے کے مطابق عہدوں سے الگ ہونے کا کہا گیا ہے۔ ان وزرا کو بھی مبینہ طور پر ناقص کارکردگی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مستعفی ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

پشاور کے ایک سینئر صحافی اور تجزیہ کار شاہد حمید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دراصل مردان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی تحریک انصاف کے ساتھ ابتدا سے وابستگی کی بنیاد پر نہ صرف 2018 کے انتخابات کے بعد بلکہ 2013 ہی سے وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کے حصول کے کوشش میں ہیں۔ جو ان کے بقول پارٹی کے اندرونی اختلافات اور گروہ بندی کی اصل وجہ ہے۔

ان کے بقول اب بتایا جاتا ہے کہ سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک بھی دوڑشامل ہو چکے ہیں۔

تحریکِ انصاف کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کی کوشش ہے کہ وزارت اعلیٰ کی کرسی بیٹے یا اپنے لیے حاصل کریں۔ البتہ ان کو رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

پرویز خٹک کے صاحب زادے ابراہیم خٹک کو صوبائی کابینہ میں وزیرِ آب پاشی کے حیثیت سے شامل ہونے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔ ان کو رواں ہفتے کے اوائل میں کابینہ میں دیگر صوبائی وزرا کے ہمراہ شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکمران جماعت ہی کے کئی رہنماؤں نے ابراہیم خٹک کو وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے غیر موزوں قرار دیا ہے۔ تاہم صوبائی کابینہ میں ان کو وزارتِ آبپاشی دینے کی بات پر اتفاق ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کے ایک اور رہنما محمد عاطف خان بھی وزارتِ اعلیٰ کے حصول کے خواہش مند ہیں۔ عاطف خان کو صوبائی اسمبلی میں ایک موثر گروپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ جن میں ان کے رشتے دار اور موجودہ وزیرِ تعلیم شہرام خان ترکئی سر فہرست ہیں۔

شہرام خان ترکئی، عاطف خان اور شکیل خان جنوری 2020 میں مبینہ طور پر وزیرِ اعلیٰ کے خلاف فارورڈ بلاک بنانے کے الزام میں وزارتوں سے الگ کیے گئے تھے۔ شہرام خان ترکئی ستمبر 2020 میں جب کہ عاطف خان اور شکیل خان چند روز قبل دوبارہ کابینہ میں شامل کیے گئے ہیں۔

صحافی شاہد حمید کا مؤقف ہے کہ جہانگیر ترین کے اثرات خیبر پختونخوا میں کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ البتہ ایک اور سینئر صحافی اور پشاور میں روزنامہ ’جنگ‘ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ارشد عزیز ملک کا مؤقف شاہد حمید کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے بہت سے ساتھی اور خیر خواہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود ہیں۔

ارشد عزیز ملک کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کی تمام تر توجہ اس وقت پنجاب پر مرکوز ہے۔ اسی وجہ سے خیبر پختونخوا میں ان کے بارے میں خاموشی ہے۔

مبصرین کے مطابق 2013 کے انتخابات سے قبل وفاقی وزیرِ دفاع اور سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک جہانگیر ترین کے تعاون سے انٹرا پارٹی انتخابات میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل بن گئے تھے مگر بعد میں عاطف خان اور شاہرام ترکئی بھی ان کے قریبی ساتھی بن گئے تھے۔

ارشد عزیز ملک اور شاہد حمید دونوں کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر ارکان اسمبلی کے درمیان وزارتوں اور دیگر عہدوں کے حصول کے لیے رسہ کشی جاری ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ محمود خان وزیرِ اعظم عمران خان کے حکم پر عہدہ چھوڑ سکتے ہیں اور اسی وقت وہ یہ عہدہ چھوڑیں گے۔ وہ حکمران جماعت میں بننے والے کسی بھی گروہ کا حصہ نہیں ہیں اور نہ کسی گروہ کی حمایت کرتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی دعوت پر وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور صوبائی وزیرِ عاطف خان کے درمیان دو روز قبل اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی جس میں خیبر پختونخوا میں عہدوں اور وزارتوں کی تقسیم پر بحث ہوئی تھی۔ البتہ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

تحریکِ انصاف کے رہنما، صوبائی وزرا اور مشیر پارٹی کی اندر اختلافات بالخصوص استعفوں کے بارے میں کسی قسم کا مؤقف دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کا کہنا ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر خیبرپختونخوا میں نہ وزیر اعلیٰ محمود خان اور نہ تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی خطرہ ہے۔ البتہ اگر جہانگیر ترین یہاں پر فارورڈ بلاک بنانے میں کامیاب ہوگئے تو اس کے منفی اثرات سے مرکزی حکومت متاثر ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG