رسائی کے لنکس

logo-print

اقتصادیات کا 'نوبیل پرائز' تین امریکیوں کے نام


ججز کے مطابق تینوں ماہرینِ معاشیات نے حصص اور بونڈز کی قیمتوں میں آئندہ تین سے پانچ سال کے عرصے کے دوران آنے والی تبدیلیوں کی پیش گوئی ممکن بنادی ہے

وقت کے ساتھ ساتھ اثاثوں کی قیمت میں آنے والی تبدیلی پر تحقیق کرنے والے تین امریکی معیشت دانوں نے اقتصادیات کے شعبے میں 2013ء کا 'نوبیل' انعام جیت لیا ہے۔

'رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز' کے مطابق یوجین فاما، لارس پیر ہینسن اور رابرٹ شلر کو یہ انعام "اثاثوں کی قیمت میں ہونے والی رد و بدل کے عملی بنیادوں پر کیے جانے والے تجزیے" پر دیا گیا ہے۔

پیر کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں انعام کے فاتحین کا اعلان کرتے ہوئے 'رائل سوئیڈش اکیڈمی' کے عہدیداران نے بتایا کہ ان تینوں ماہرینِ معاشیات نے حصص اور بونڈز کی قیمتوں میں آئندہ تین سے پانچ سال کے عرصے کے دوران آنےوالی تبدیلیوں کی پیش گوئی ممکن بنادی ہے جن کے بارے میں اس سے قبل چند دن کی پیش گوئی بھی مشکل تھی۔

انعام پانے والوں میں سے یوجین فاما اور لارس پیٹر ہینسن امریکی ریاست الی نوائے کی 'یونیورسٹی آف شکاگو' سے بطور پروفیسر منسلک ہیں جب کہ رابرٹ شلر کنیکٹی کٹ کی 'ییل یونیورسٹی' میں پڑھاتے ہیں۔

ہر سال اقتصادیات کے شعبے میں دیا جانے والا 'نوبیل پرائز' ان ابتدائی انعامات میں شامل نہیں جن کا آغاز ڈائنامائٹ کے موجد اور معروف سائنس دان اور صنعت کار الفریڈ نوبیل نے 1895ء میں کیا تھا۔

اقتصادیات کے شعبے میں اس انعام کا آغاز سوئیڈن کے مرکزی بینک نے جناب نوبیل کی یاد میں 1968ء میں کیا تھا اور بینک کے نام ہی کی مناسبت سے اس پرائز کو 'سیوریجز رکس بینک پرائز ان اکنامک سائنسز' کہا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG