رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی کے تین اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق دھماکے کے پانچ زخمیوں کو سوئی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مشرقی ضلعے ڈیرہ بگٹی میں ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے ضلعے میں تیل اور گیس تلاش کرنے والی ایک کمپنی کے ملازم تھے۔

ضلع ڈیرہ بگٹی کے اسسٹنٹ کمشنر محمد حُسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ضلعے میں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرنے والی نجی کمپنی 'بی جی پی' کے کارکنوں کی ایک ٹیم تحصیل لوٹی کے علاقے ٹوبہ نوتکانی میں سروے کا کام کر رہی تھی جس کے دوران اس کی گاڑی علاقے میں بچھائی گئی بارودی سُرنگ سے ٹکرا گئی۔

دھماکے سے گاڑی میں سوار تمام آٹھ افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے تین افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق دھماکے کے پانچ زخمیوں کو سوئی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ لیکن اس سے پہلے ضلع ڈیرہ بگٹی میں ہونے والے تشدد کے بیشتر واقعات کی ذمہ داری علاقے میں ریاست کے خلاف بر سرِ پیکار کالعدم تنظیم 'بلوچ ری پبلکن آرمی' قبول کرتی رہی ہے۔

حکام کا الزام ہے کہ 'بلوچ ری پبلکن آرمی' فوجی آپریشن میں قتل ہونے والے ڈیرہ بگٹی کے نواب اکبر بگٹی کے پوتے نواب زادہ براہمدغ بگٹی کی قیادت میں کام کرنے والی سیاسی جماعت 'بلوچستان ری پبلکن پارٹی' کی اتحادی تنظیم ہے۔

منگل کو بلوچستان میں پرتشدد واقعات کا مسلسل دوسرا روز تھا۔ ایک روز قبل پیر کو بلوچستان کے دو اضلاع آواران اور پنجگور میں دو مختلف حملوں میں آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

آواران میں فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکاروں کے قافلے پر راکٹوں سے حملے میں چھ اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ جب کہ پنجگور کے علاقے گومازان میں ایک سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں کی گاڑی پر فائرنگ میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

پنجگور کے واقعے کی ذمہ داری کالعدم 'لشکرِ بلوچستان' اور کالعدم 'بلوچستان ری پبلکن آرمی' نے مشترکہ طور پر قبول کر لی ہے۔

بلوچستان میں اس سے قبل بھی تیل اور گیس کی تلاش کا کام کرنے والی غیر ملکی اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے اہلکاروں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کی زمین اور پہاڑی سلسلوں میں معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن میں قدرتی گیس، کوئلے، سونے اور تانبے کے علاوہ قیمتی پتھر مثلاً عقیق، کارنٹ اور ماربل کے ذخائر شامل ہیں۔

لیکن صوبے میں طویل عرصے سے جاری بدامنی اور ناموزوں حالات کے باعث قدرتی وسائل کی دریافت اور ان سے استفادے کا کام محدود پیمانے پر ہی ممکن ہو سکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG