رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: گاڑی پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل

حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق فرنٹیئر کور کے 195 شوال ونگ سے تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پیر کی صبح نامعلوم عسکریت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر حملے میں کم از کم تین اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔

ایجنسی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ رزمک روڈ پر دوسلی کے مقام پر ہوا۔ حملے کے بعد عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیابرہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق فرنٹیئر کور کے 195 شوال ونگ سے تھا۔

ہلاک ہونے والوں کی نعشیں اور زخمیوں کو میران شاہ کے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کے دستوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر زرمک-میران شاہ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بندکردیا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر ایجنسی انتظامیہ کے عہدیدار اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں جون 2014ء سے جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں اور زیادہ تر عسکریت پسند یا تو مارے جاچکے ہیں یا گرفتار یا فرار ہوچکے ہیں۔

اس فوجی کاروائی کے بعد شمالی وزیرستان میں بالخصوص اور پاکستان بھر بالعموم میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وقتاً فوقتاً دہشت گرد سرکاری اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG