رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں صدارتی انتخابی مہم تیزی ’القاعدہ کے حملے کا خطرہ‘


امریکہ میں وفاقی اور ریاستی اداروں کے اہل کار اُن اطلاعات کی چھان بین کر رہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کا دہشت گرد گروپ امریکی صدارتی انتخاب کے موقع پر یا اس سے پہلے حملے کی سازش کر سکتا ہے۔

خطرے کے امکان کے بارے میں یہ اطلاع ایسے وقت دی گئی ہے جب صدارتی انتخابات میں صرف چار روز باقی ہیں، جب انٹیلی جنس اہل کاروں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ نیویارک، ورجینیا اور ٹیکساس کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

نیو یارک شہر کے پولیس اہل کاروں نے جمعہ کے روز بتایا کہ وہ ایف بی آئی انسداد دہشت گردی کی مشترکہ ٹاسک فورس اور اپنے انٹیلی جنس دستوں کی مدد سے ایسے کسی امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر، اسٹیفن ڈیوس نے خبردار کیا ہے کہ ’’یہ اطلاع واضح نہیں۔ ہم نیو یارک سٹی سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘‘۔

’وائی این وائی سی‘ ریڈیو کے ہفتہ وار پروگرام میں کہا کہ نیو یارک سٹی کے میئر، بِل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ یہ خدشہ نیا نہیں۔

ڈی بلاسیو نے کہا کہ ’’مجھے کئی روز سے اِس کا علم تھا۔ ہم اس رپورٹ کی حقیقت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں آیا یہ کس حد تک قابل بھروسہ ہے‘‘۔

محکمہٴ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایک اہل کار نے کہا ہے کہ ادارہ کسی ممکنہ خطرے سے آگاہ ہے۔ تاہم، اہل کار نے کسی وضاحتی بیان سے گریز کیا۔

اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’ہم ایک عرصے سے یہ کہتے آئے ہیں کہ ایسے ماحول میں، دیسی ساختہ پُر تشدد انتہا پسند فوری یا تھوڑے عرصے کے اندر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ہماری یہ تشویش کہ پُر تشدد انتہا پسند امریکہ کے اندر ایسے حملے کرنے کا سوچ سکتے ہیں، ختم نہیں ہوئی‘‘۔

اپنے بیان میں، ایف بی آئی نے کہا ہے کہ امریکہ کا انسداد دہشت گردی کا ادارہ اور قانون کا نفاذ کرنے والے ’’ایسے کسی حملے کی صورت میں دفاع کے لیے چوکنہ اور تیار ہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG