رسائی کے لنکس

جنوبی بحیرہ چین کا تنازع حل کیا جائے، ٹلرسن


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن جنوبی ایشیائی ملکوں کے دورے پر ہیں۔ اگست 2017

توقع کی جا رہی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ جب  منیلا میں اکٹھے ہو ں گے تو وہ جنوبی چین کے سمندر پر ضابطے کے ایک لائحہ عمل کی توثیق کریں گے۔

ایسے میں کہ جب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اس ہفتے جنوب مشرقی ایشیا کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کر رہے ہیں، امریکہ جنوبی چین کے سمند ر میں متنازع علاقائی دعوؤں کو کسی تشدد آمیز محاذ آرائی کی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لیے مسلسل کوئی ایسا ضابطہ عمل اپنانے پر زور دے رہا ہے جس کی قانونی طور پر پابندی لازمی ہو ۔ مسٹر ٹلرسن شمالی کوریا کو الگ تھلگ کرنے کے لیے علاقائی اتحادیوں سے مزید تعاون حاصل کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

چین کی جانب سے ایک سخت انتباہ کے بعد ویت نام نے جنوبی چین کے سمندر میں گیس نکالنے کے لیے توانائی کی ایک کمپنی کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا۔ یہ دنیا کی ایک سب سے زیادہ متنازع آبی شاہراہ پر، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وسائل سے مالا مال ہے، جاری تنازعے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ توقع ہے کہ جب منیلا میں اکٹھے ہو ں گے تو جنوبی چین کے سمندر پر ضابطے کے ایک لائحہ عمل کی توثیق کریں گے۔

اس لائحہ عمل میں اگرچہ محاذ آرائی پر تعاون کا وعدہ کیا گیا ہے، تاہم اس کی قانونی طور پر پابندی لازمی نہیں ہے ۔ اس لیے اسے چین کے اثر و رسوخ کی جانب جھکاؤ کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔

امریکہ تنازعے کے حل کا کوئی طریقہ کارتلاش کرنے اور آمدو رفت کی آزادی بر قرار رکھنے پر زور دیتا رہے گا۔

مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل ملکوں کے أمور کے لیے امریکی قائم مقام وزیر خارجہ سوزم تھورنٹن کا کہنا ہے کہ عدم استحكام پیدا کرنے کے اقدامات، مثلاً چین کی جانب سے زمینی علاقوں کی بازیابی، متنازع علاقوں میں تعمیرات اور اسے فوجی بنانے کے اقدامات خطے میں ان اختلافات کے پر امن حل کو دشوار بنا تے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن چاہتے ہیں کہ کوئی تنازع سامنے لائے بغیر چین کے ساتھ اختلافات طے کرنے پر کام کیاجائے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف دباؤ بڑھایا جائے۔

اگر شمالی کوریا جوہری ہتھیار رکھتا ہے یا وہ ان ہتھیار خطے کے کسی بھی ملک پر داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو ایسے میں کسی کا بھی مستقبل محفوظ نہیں ۔ اس سلسلے میں ہم چین کے ساتھ شراکت داری کی کوشش کر چکے ہیں۔ چین شمالی کوریا کی معیشت میں نوے فیصد کا ذمہ دار ہے۔

مسٹر ٹلرسن جنوب مشرقی ایشیا کے بلاک کے ساتھ بہت محتاط طریقے سے چلیں گے۔ وہ یہ تاثر پیدا کیے بغیر کہ جنوبی چین سے متعلق اس بلاک کے خدشات پر، شمالی کوریا سے متعلق ان کے خدشات حاوی ہیں۔ پیانگ یانگ کو الگ تھلگ کرنے کے لیے بلاک کی جانب سے از سر نو یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

سینٹر فار اسٹریٹیجک اور انٹر نیشنل اسٹڈیز سنٹر کےگریگوری پولنگ کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ ملائیشیا، ویت نام اور فلپائن کے لیے شمالی کوریا جنوبی چین کے سمندر سے کہیں کم اہمیت کا حامل ہے، جو ان کے بالکل قریب واقع ہے۔

کچھ دوسرے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علاقائی اتحادیوں میں یہ إحساس پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ ممکن ہے کہ انہیں جنوبی چین کے سمندر کے تنازعوں میں واشنگٹن کی جانب سے عملی مدد نہ ملے۔

چیتھم ہاؤس کے بل ہیٹن نے اسکائپ کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ ٹرمپ انتظامیہ پر اس بارے میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسی کسی محاذ آرائی میں ویت نام کے مفاد کا تحفظ کرے گی۔ تو یہ اس چیز کی ایک علامت ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کی حکومتوں کو یہ تشویش لاحق ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ان کے مفادات کے دفاع میں دلچسپی نہیں ہے۔

آسیان کے ایجنڈے میں سمندری علاقے کی سیکیورٹی اور جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ خیال کیا جا رہا ہے کہ علاقے میں دہشت گردی کا انسداد بھی سر فہرست ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG