رسائی کے لنکس

واشنگٹن: بدھ کو ٹِلرسن لاوروف شام، یوکرین پر بات چیت کریں گے


یوکرین

محکمہٴ خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا ہے، جس کے مطابق ’’شام کے بارے میں وزیر خارجہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں اور شامی عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی؛ اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے ماحول پیدا کرنے کے بارے میں گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں‘‘

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن بدھ کو واشنگٹن میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے شام، یوکرین اور دیگر امور پر بات چیت کریں گے۔

محکمہٴ خارجہ نے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا ہے، جس کے مطابق ’’شام کے بارے میں وزیر خارجہ کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں اور شامی عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی؛ اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے ماحول پیدا کرنے کے بارے میں گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں‘‘۔

یہ اعلان ایسے میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ جِم میٹس نے کہا ہے کہ امریکہ شام میں ’’کشیدگی کم کرنے‘‘ کے لیے ’زونز‘ قائم کرنے کے روسی منصوبے کا گہرائی سے جائزہ لے گا۔

پیر کے روز جب اُن سے پوچھا گیا، تو میٹس نےکہا کہ ’’تفصیل میں ہی اکثر و بیشتر الجھنیں چھپی ہوتی ہیں۔ بقول اُن کے، ’’ہم اس تجویز پر غور کریں گے اور دیکھیں کے آیا یہ قابلِ عمل ہے‘‘۔

روس، ترکی اور ایران نے گذشتہ ہفتے روس کی جانب سے پیش کردہ ایک تجویز سے اتفاق کیا جس میں شام میں ’’کشیدگی کم کرنے‘‘ کے لیے خصوصی علاقے قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے، تاکہ چھ برس پرانے تنازع کا خاتمہ لایا جاسکے۔

اس تجویز کے تحت شام کے چار علاقوں میں لڑائی میں کمی لانے کے اقدامات اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جس علاقے میں اُن باغیوں کا قبضہ ہے جو داعش کے شدت پسندوں کے ساتھ منسلک نہیں ہیں۔

یہ منصوبہ قزاقستان کے دارالحکومت، آستانہ میں منعقد ہونے والے امن مذاکرات کے تازہ ترین دور میں سامنے آیا جس میں روس، ایران اور ترکی نے شرکت کی۔ اجلاس میں امریکہ کا ایک اعلیٰ اہل کار موجود تھا۔ لیکن، اُنھوں نے سمجھوتے پر دستخط نہیں کیے۔

اس پیکیج پر جمعے کی نصف شب سے عمل درآمد شروع ہوا۔ روس نے کہا ہے کہ یہ علاقے امریکی قیادت والے اتحاد کے طیاروں کے لیے بند رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG