رسائی کے لنکس

نیٹو اتحادیوں کو اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا: ٹِلرسن


برسلز آمد پر ایک پیغام میں، ٹِلرسن نے کہا کہ وہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ’’یوکرین میں روسی جارحیت‘‘ پر گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں۔ جمعرات کے روز ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر راہنماؤں سے ملاقات کے بعد، اُنھوں نے ترکی کو ایک قابلِ اعتماد اتحادی قرار دیا

امریکی وزیر خارجہ، ریکس ٹِلرسن نے جمعے کے روز برسلز میں نیٹو کے اپنے اتحادی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کی جس دوران اُنھوں نے اُن پر زور دیا کہ اُن کے ملکوں کو دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیئے۔

اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار نے وزرائے خارجہ سے کہا کہ اتحاد کے پاس وہ تمام وسائل اور رقوم مسیر رہنی چاہئیں جس کے ذریعے نیٹو ہمہ وقت اس قابل ہو کہ عراق اور شام جیسے مقامات پر اپنا مشن پورا کر سکے۔

اس سے قبل، جمعے کے روز ٹِلرسن نے کہا کہ وہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ’’یوکرین میں روسی جارحیت‘‘ پر گفتگو کرنے کے خواہاں ہیں۔

برسلز میں آمد کے موقعے پر، اعلیٰ امریکی سفارت کار نے کہا کہ وہ تین اہم شعبوں کے بارے میں بات چیت کریں گے: اپنے مشن کی تکمیل کے لئے نیٹو کے وسائل، تنظیم کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف لڑائی، جس میں داعش شامل ہے؛ اور یورپ میں نیٹو کا مؤقف، ’’خاص طور پر یوکرین اور دیگر مقامات پر روسی جارحیت کا مشرقی یورپ کی جانب سے جواب‘‘۔

جنوری، جب سے ٹرمپ انتظامیہ اقتدار میں آئی ہے، اُس کی جانب سے روس کے خلاف دیا جانے والا یہ سخت ترین بیان ہے۔

برسلز کے دورے سے ایک روز قبل، ٹِلرسن نے انقرہ میں ترکی کے چوٹی کے اہل کاروں سے ملاقات کی۔

جمعرات کے روز ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر راہنماؤں سے ملاقات کے بعد، اُنھوں نے ترکی کو ایک قابلِ اعتماد اتحادی قرار دیا۔

ٹِلرسن نے داعش کے خلاف لڑائی میں ترکی کے کلیدی کردار کی جانب توجہ مبذول کرائی۔

تاہم، داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی جانب سے شامی کرد گروپ ’پی وائی ڈی‘، اور اُس کی ملیشیا کے دھڑے، ’وائی پی جی‘ کی حمایت کے باعث دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی رہتی ہے۔ ترکی ’پی وائی ڈی‘ کو ’پی کے کے‘ سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم ہونے کا الزام لگاتا ہے، جو ترک ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے۔

ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں، ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوگلو نے ’پی وائی ڈی‘ کی حمایت کرنے کے معاملے پر ترکی کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ پر براہِ راست نکتہ چینی سے گریز کیا۔

ٹِلرسن نے اِس تنازع میں کسی پیش رفت حاصل نہ ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اِس پر مزید گفتگو کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم متعدد راستوں اور متبادل تلاش کر رہے ہیں‘‘۔ لیکن، ’پی کے کے‘ کے خلاف لڑائی میں امریکہ کی جانب سے ترکی کی حمایت کا اعادہ کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG