رسائی کے لنکس

مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’حکومتِ شام فوری طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روک دے اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے وابستہ تنظیم کے روبرو حتمی اعلان کرے کہ اُس کے پاس کون سے سارے کیمیائی ہتھیار موجود ہیں‘‘

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور متعدد دیگر سفارت کاروں نے بدھ کے روز ایک بیان پر دستخط کیے ہیں، جس میں اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر حکومتِ شام کی مذمت کی گئی ہے۔

فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت دیگر وزرائے خارجہ کے ہمراہ، ٹلرسن نے یہ مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی جانب سے حالیہ دِنوں ایک رپورٹ سامنے آچکی ہے جو اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ شام کے صدر بشار الاسد نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی، جب گذشتہ سال اُس نے باغیوں کے زیر کنٹرول قصبے، خان شیخون میں سارین گیس استعمال کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم اس قبیح اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتِ شام فوری طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روک دے اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے وابستہ تنظیم کے روبرو حتمی اعلان کرے کہ اُس کے پاس کون سے سارے کیمیائی ہتھیار موجود ہیں‘‘۔

ٹلرسن اور دیگر سفارت کاروں نے بتایا کہ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو زیر غور لایا جائے اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ مشترکہ تفتیش کے طریقہٴ کار کو جاری رکھا جائے، جیسا کہ تنظیم کی تشکیل کے وقت طے پایا تھا۔

سفارت کاروں کے بیان کے مطابق، مشترکہ تفتیش کے طریقہٴ کار سے وابستہ تفتیش کاروں نے رپورٹ دی ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ خان شیخون پر حملے سے ایک ہفتہ قبل شام کے قصبے الطامنہ میں سارن گیس کا ایک اور حملہ ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG