رسائی کے لنکس

کیا کرونا وبا کی وجہ سے مصافحے کی صدیوں پرانی روایت دم توڑ جائے گی؟


جنیوا سمٹ میں صدر بائیڈن اور صدر پوٹن کا مصافحہ

یہ سوال آج کل بہت سے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دور میں دوسروں سے مصافحے کے لیے ہاتھ ملائیں یا نہیں۔

کچھ لوگ ہاتھ آگے نہ بڑھانے کو معیوب سمجھتے ہیں جبکہ بعض ملاقات کے وقت اس تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں کہ کہیں ہاتھ بڑھا کر وہ بیماری کو دعوت نہ دے رہے ہوں یا سامنے والے کو مشکل میں نہ ڈال رہے ہوں۔

امریکی شہر کنساس سٹی کی ایک میٹنگ اور ایونٹ کمپنی نے اپنے طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے ایسے اسٹکرز فروخت کرنے شروع کیے ہیں جن پر یہ تحریر ہوتا ہے کہ 'آئی شیک ہینڈز' یعنی میں مصافحہ کرتا/کرتی ہوں۔'

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا کا اپنے رہائش گاہ پر کووڈ کے دنوں میں مختلف انداز سے خیر مقدم کر رہے ہیں (اے پی)
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا کا اپنے رہائش گاہ پر کووڈ کے دنوں میں مختلف انداز سے خیر مقدم کر رہے ہیں (اے پی)

ایم ٹی آئی ایونٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر آف آپریشنز جان ڈی لیوں نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس اسٹکر کے ذریعے کسی منفی سوچ کو تقویت نہیں دینا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق جو لوگ مصافحہ نہ کرنا چاہیں، ان کے اس اسٹکر کے نا لگانے سے ان کا پیغام واضح ہو جائے گا۔

مگر ڈی لیوں کا کہنا ہے کہ سماجی زندگی میں مصافحہ کرنے کو اب پہلے جیسی قبولیت شاید کبھی نہ مل پائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پیش کردہ ان اسٹکرز کو کوئی خاص عوامی پذیرائی نہیں مل پائی اور بہت سی جگہوں پر ایسے اسٹکرز زیادہ نمایاں لگے نظر آتے ہیں جن میں مصافحہ کرنے اور گھلنے ملنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہو۔

امریکہ میں ویکسین کی دستیابی کے کئی مہینوں بعد دفاتر کھل رہے ہیں، عبادت گاہوں میں آنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے، دوست احباب آپس میں پھر سے ملنا جلنا شروع ہو گئے ہیں مگر یہ احساس ہر شخص کو ہے کہ دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہی۔

گلے ملیں یا نہیں؟ ہاتھ آگے بڑھائیں تو سامنے والا ملانا چاہے گا یا نہیں؟ نا بڑھانا بد اخلاقی کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟ لوگوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات ہیں۔ لوگ ملنا چاہتے بھی ہیں اور کس طرح ملیں اس پر پریشان بھی ہیں۔

امریکی رکن کانگریس ایانا پریسلی کا بوسٹن راکسبری یونیٹی پریڈ میں شرکا سے ملاقات کا ایک انداز
امریکی رکن کانگریس ایانا پریسلی کا بوسٹن راکسبری یونیٹی پریڈ میں شرکا سے ملاقات کا ایک انداز

مصافحہ کرنے کی صدیوں پرانی روایت کے بارے میں ایک عام خیال ہے کہ ابتدا میں یہ اس بات کا اظہار ہوتا تھا کہ آپ سامنے والے سے امن اور سلامتی میں مل رہے ہیں اور یہ کہ آپ کے پاس کوئی چھپا ہوا ہتھیار نہیں ہے۔ دور حاضر میں اسے خیر مقدمی عمل اور گرم جوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

آج ہاتھوں میں ہتھیار بے شک نہ ہوں لیکن جراثیم ہو سکتے ہیں اور تیزی سے پھیلتے کرونا وائرس کے باعث یہی بات اب مسئلہ بن گئی ہے۔ سوال پھر وہی بنتا ہے کہ ہاتھ ملائیں یا نہ ملائیں؟ اس سوال کا آپ کو مختلف لوگوں سے مختلف جواب ملے گا۔

امریکہ میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی سے جب یہ پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 'سچ پوچھیں تو میرا نہیں خیال کہ اب ہمیں کبھی بھی مصافحہ کرنا چاہیے۔'

لیکن دوسری جانب جان ہاپکنز یونیورسٹی میں متعددی امراض کے ماہر ڈاکٹر امیش ادلجا کے نزدیک ہاتھ ملانے یا نا ملانے کے عمل کو ضرورت سے زیادہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ "اگر آپ کرونا سے پریشان ہیں تو مصافحہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ سب سے پہلے ویکسین لگوائیں اور دوسری تدابیر اختیار کریں، جیسے کہ منہ پر ہاتھ لگانے سے پہلے انہیں اچھی طرح دھو لیں یا پھر سینیٹائزر کا استعمال کریں۔''

کرونا کے دنوں میں کھلاڑیوں کے ملنے کا ایک انداز
کرونا کے دنوں میں کھلاڑیوں کے ملنے کا ایک انداز

ہاتھ ملانا یا مصافحہ کرنے کو ایک غیر ارادی عمل کہا جائے تو بے جا نا ہوگا۔ لیکن ایک عرصے سے گھر بیٹھے بیٹھے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملاقات کا اور ہاتھ ملانے کا موقع بھی نہیں مل پارہا تھا۔ سالگرہ کی تقاریب سے لیکر انتقال کی صورت میں آخری سومات تک، سب کچھ آن لائن ملاقاتوں میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اب جب کاروبار زندگی معمول پر آ رہا ہے تو تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے ڈیلٹا ویرئینٹ نے نئی پریشانیاں کھڑی کر دی ہیں۔

تاہم مجلسی آداب کے ماہر اور کنساس سٹی کے رہائشی ڈیو مک کلین کا کہنا ہے کہ 'آپ لاکھ ایک دوسرے کو فون کالز کر لیں، سیکڑوں بار آن لائن ملاقاتیں کر لیں لیکن جو بات آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے گرم جوشی سے ہاتھ ملانے میں ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔'

مجلسی آداب کی ہی ماہر اور 'بہتر زندگی کے لئے جدید آداب' کے موضوع پر کتاب تحریر کرنے والی ڈایان گوٹسمین کا بھی ماننا ہے کہ کرونا وبا مصافحہ جیسی روایت کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ البتہ ان کے بقول، اس کے لیے دوسروں کو مشکل میں نا ڈالا جائے۔

ان کا کہا ہے کہ "آپ کو خود بے شک مصافحہ کرنے پر اعتراض نہ ہو لیکن ہاتھ آگے بڑھانے میں خود سے پہل نہ کریں۔"

ایسا ہی کچھ خیال آداب محفل کی ایک اور ماہر لزی پوسٹ کا بھی ہے۔ خبر رساں ادارے 'اے پی' سے بات کرتے ہوئے لزی کا کہنا تھا کہ سماجی رابطوں کے لیے اس مشکل دور میں اب ویکسی نیشن دستیاب ہے تو سوال یہ بنتا ہے کہ خاندان اور دوستوں یا ملازمت پر ساتھ کام کرنے والوں میں کون کون ویکسی نیشن کروا چکا ہے۔ خود لزی کا ارادہ ہے کہ ملاقاتوں میں وہ آگے بڑھ کر یہ بتایا کریں گی کہ انہوں نے ویکسین لگوا لی ہے اور کون ان سے ہاتھ ملانے یا گلے ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔

عالمی وبا کے دنوں میں ہاتھ ملانے کا ایک اور منفرد انداز
عالمی وبا کے دنوں میں ہاتھ ملانے کا ایک اور منفرد انداز

لزی پوسٹ کہتی ہیں کہ جو لوگ ہاتھ ملانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی چاہیے کہ اس سے پہلے کہ کوئی ان کی جانب ہاتھ بڑھائے اور صورتِ حال عجیب ہو جائے، لوگوں کو نرمی سے یہ بتا دیا جائے کہ وہ مصافحہ کرنا یا گلے ملنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ ملنے پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ 'میں معذرت خواہ ہوں میں مصافحہ نہیں کرتا/کرتی، لیکن مجھے آپ سے مل کے بہت خوشی ہوئی ہے۔'

لزی مصافحہ کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہماری روایات میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ اسے مستقل طور پر جدا کرنا ممکن نہیں۔

اس تحریر میں بعض معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG