رسائی کے لنکس

ٹام مارینو کی امریکی ڈرگ کنٹرول کمیشن کی سربراہی قبول کرنے سے معذرت


رپبلکن کانگریس مین ٹام مارینو (دائیں طرف)۔ فائل فوٹو

نامزدگی کے بعد اس عہدے کیلئے کانگریس کی حتمی منظوری لازمی ہے۔ تاہم پینسل وانیہ سے کانگریس مین ٹام مارینو نے اس مرحلے سے پہلے ہی اپنا نام واپس لے لیا ہے۔

رپبلکن رکنِ کانگریس ٹام مارینو نے نیشنل ڈرگ کنٹرول پالیسی کے سربراہ کے طور پر نامزدگی سے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ اُنہیں اس عہدے کیلئے صدر ٹرمپ نے نامزد کیا تھا۔

اُن کا یہ اقدام اس بات کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے کہ اُنہوں نے ایک ایسے بل کو پاس کرانے کی کوشش کی تھی جس میں اوپیوآئیڈ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے حکومت کے اختیار کو محدود کر دیا گیا۔ اوپیوآئیڈ سے دوا تیار کرنے والی کمپنی نے درد کم کرنے والی ایسی گولیاں بازاروں میں بھر دی تھیں جن میں یہ نشہ آور دوا شامل تھی۔

نامزدگی کے بعد اس عہدے کیلئے کانگریس کی حتمی منظوری لازمی ہے۔ تاہم پینسل وانیہ سے کانگریس مین ٹام مارینو نے اس مرحلے سے پہلے ہی اپنا نام واپس لے لیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے، ’’ٹام مارینو نے مجھے بتایا ہے کہ وہ نیشنل ڈرگ کنٹرول پالیسی کے سربراہ کے طور پر نامزدگی سے اپنا نام واپس لے رہے ہیں۔ ٹام ایک اچھے انسان اور عظیم کانگریس مین ہیں۔‘‘

ٹام مارینو کے دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس بارے میں ٹام مارینو کوئی فوری بیان نہیں دینا چاہتے۔

درایں اثناء امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ وہ منشیات کا کاروبار کرنے والی دو بڑی چینی کمپنیوں پر فرد جرم عائد کر رہا ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعے امریکی صارفین کو ایسی درد کم کرنے والی دوائیں بیچ رہی ہیں جن میں ہیروئین سے 50 گنا زیادہ خطرناک سنتھیٹک اوپیوآئیڈ دوائیں استعمال کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں 40 سالہ ژیاؤبنگ یان اور 38 سالہ جیانگ ژانگ کے علاوہ پانچ کینیڈئنز ، فلوریڈا کے دو شہریوں اور نیو جرسی کے ایک رہائشی پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

امریکہ میں اوپیوآئیڈ کی زیادہ مقدار والی دواؤں کی فروخت حد سے بڑھ گئی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو اس حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 10 اگست کو کہا تھا کہ وہ اوپیوآئیڈ کے حوالے سے ملک میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم اُنہوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے۔ ہنگامی صورت حال کے نفاذ سے امریکی حکومت کو ایسی دوائیں فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے قائم کردہ ایک کمشن نے تحقیقات کے بعد صورت حال کو اوپیوآئیڈ کا بحران قرار دیتے ہوئے صدر سے درخواست کی تھی کہ اس سلسلے میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا جائے

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ اگلے ہفتے ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پہلے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے جو خاصا وقت طلب ہے۔

بیماریوں کے کنٹرول اور تحفظ کیلئے امریکی مرکز کی طرف سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2015 میں امریکہ بھر میں اوپیوآئیڈز سے 33,000 افراد کی موت واقع ہوئی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ اور CBS نے اتوار کے روز ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ٹام مارینو نے ایپیوآئیڈز دواؤں کی فروخت روکنے کی کوششوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔

ٹام مارینو کی طرف سے متعارف کرائے گئے مسودہ قانون کو گزشتہ برس کانگریس کی منظوری حاصل ہو گئی تھی جس کے بعد سابق صدر براک اوباما کی طرف سے اس پر دستخط کرنے کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ اس قانون کا مقصد ان نشہ آور دواؤں کی فروخت روکنے کے حوالے سے ڈرگ انفورسمنٹ اتھارٹی یعنی DEA کا اختیار کمزور ہو گیا تھا۔ اس قانون سے DEA کیلئے یہ ناممکن ہو گیا تھا کہ وہ فروخت کیلئے آنے والی نشہ آور شپ منٹ کو قبضے میں لے سکے۔

سنیٹ میں اقلیتی رہنما چک شیومر نے مارینو کی طرف سے نامزدگی مسترد کرنے کے اقدام کو سراہا ہے۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ اس پس منظر میں ٹام مارینو کی نامزدگی ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بارے میں سنجیدگی سے کام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG