رسائی کے لنکس

امریکی وزیرِ خارجہ نے جنوبی ایشیا کا اہم دورہ مکمل کر لیا


نور خان ایئربیس، اسلام آباد

ٹلرسن سے ملنے کے لیے افغان صدر اشرف غنی بگرام فضائی اڈے گئے، جس دورے کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا، جس دوران طالبان کی بغاوت سے نبرد آزما ہونے پر بات چیت کی گئی، جو امریکی فوجی اہل کاروں کے مطابق تعطل کا شکار ہے

اپنے طوفانی دورے میں، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے دنیا کے انتہائی حساس معاملات پر گفت و شنید کی، جس کا مقصد افغانستان کو افراتفری کی دلدل سے نکالنا؛ کُرد عراقی کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کرنا، تاکہ داعش دوبارہ سر نہ اٹھا پائے اور جتنا ممکن ہو ایران کو تنہا کیا جائے۔

یہ کوئی حیران کُن بات نہیں کہ ٹلرسن کا افغانستان اور بھارت میں خیرمقدم کیا گیا، جہاں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بڑھتی ہوئی ساجھے داری قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو بات خطے کے بارے میں حالیہ دِنوں اعلان کردہ پالیسی کا ایک حصہ ہے۔ پاکستان میں اُن کا استقبال سردمہری سے کیا گیا، جس پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ انتہاپسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرے اور اُن کے محفوظ ٹھکانوں کا صفایا کرے۔

پانچ روزہ چھ ملکی دورہ سفارتی مشکلات کی غمازی کرتا ہے جو امریکہ کو درپیش ہیں، جب کہ اِن سے بالمشافیٰ نمٹنا خطرات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس بات کا ادراک رکھتے ہوئے کہ گذشتہ ماہ وزیر دفاع جِم میٹس کے دورے سے چند ہی گھنٹے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر باغیوں نے حملہ کیا تھا، کابل اور افغانستان میں وہ چند ہی گھنٹوں کے لیے رُکے، جہاں اُنھوں نے رات کا قیام نہیں کیا۔

ٹلرسن سے ملنے کے لیے افغان صدر اشرف غنی بگرام فضائی اڈے گئے، جس دورے کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا، جس دوران طالبان کی بغاوت سے نبرد آزما ہونے پر بات چیت کی گئی، جو امریکی فوجی اہل کاروں کے مطابق تعطل کا شکار ہے۔

افغان تجزیہ کار، فیض محمد زلاند نے، جنھوں نے بیرون ملک طالبان اہل کاروں کے متعدد اجلاسوں میں شرکت کی ہے، ٹلرسن کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس میں طالبان کو امن عمل میں شریک کرنے کے لیے کہا گیا ہے، اگر وہ دہشت گردی اور پُرتشدد انتہاپسندی کی مذمت کرتے ہیں۔

ٹلرسن نے جمعرات کو اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’ہم نے طالبان پر یہ بات واضح کر دی ہے: آپ کبھی فوجی کامیابی حاصل نہیں کر پاؤ گے‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’کیا آپ چاہو گے کہ آپ کے بچے اور بچوں کے بچے یہ لڑائی لڑتے رہیں؟ کیونکہ اگر آپ پیش رفت کے حصول کے لیے کوئی مختلف انداز نہیں اپناتے تو یہی کچھ ہوگا‘‘۔

ایک سابق طالبان اہل کار، اکبر آغا نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ طالبان حکومت کے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں اور بضد ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیں واپس چلی جائیں، ایسے وقت جب امریکہ اور اُس کے اتحادی اپنی فوجوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG