رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں فوجی مداخلت بند کی جائے، امریکہ کا سعودی عرب سے مطالبہ


ویانا

ریکس ٹلرسن نے یہ بیان پیرس میں دیا جس سے دو روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ سے کہا کہ وہ ناکہ بندی اٹھائے جانے کے لیے دباؤ بڑھائے، تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسد فراہم کی جاسکے اور سمندری جہازوں کے ذریعے کاروبار جاری رہ سکے

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے جمعے کے روز سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ یمن میں اپنی فوجی مداخلت بند کرے، جس ملک میں دو سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں جانی نقصان کا بحران سنگین تر ہوگیا ہے۔

عرب بادشاہت کی جانب سے گذشتہ ماہ یمن کی ناکہ بندی کے اعلان کے بارے میں ٹلرسن نے کہا کہ ’’ہم اُن کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ مناسب اقدام لیں اور زیادہ محتاط انداز اپنائیں‘‘۔

وزیر خارجہ نے یہ بیان پیرس میں دیا جس سے دو روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ سے کہا کہ وہ ناکہ بندی اٹھائے جانے کے لیے دباؤ بڑھائے، تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسد فراہم کی جاسکے اور سمندری جہازوں کے ذریعے کاروبار جاری رہ سکے۔

یمن کے معاملے پر ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف سخت مؤقف ایسے وقت اختیار کیا جا رہا ہے جب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے گروپوں نے نکتہ چینی کی ہے کہ اُن کی انتظامیہ نے یمن میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے بارے میں زیادہ تر لب کشائی سے احتراز برتا ہے۔

جمعے کے دِن پیرس میں لبنان کی اعانت کے بین الاقوامی گروپ کے اجلاس میں شرکت کے بعد، ٹلرسن نے یمن کی خانہ جنگی اور مشرق وسطیٰ کے دیگر امور پر گفتگو کی، جس گروپ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ کے ارکان شامل ہیں۔

گروپ نے لبنان میں استحکام کے قیام پر غور و خوض کیا، اور سعودی عرب اور ایران سے کہا کہ وہ اُس کی سیاست میں مداخلت کرنا بند کریں اور لبنان میں قائم حزب اللہ سیاسی پارٹی اور شدت پسند گروپ پر زور دیا کہ وہ اپنی علاقائی سرگرمیاں محدود رکھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG