رسائی کے لنکس

یمن: حوثیوں کے ہاتھوں سابق صدر علی عبداللہ صالح ہلاک


’جنرل پیپلز کانگریس‘ کے سربراہ، فائقہ السید نے صدر صالح کی ہلاکت کا ذمہ دار حوثی باغیوں کو قرار دیا، جنھوں نے اُنھیں دارالحکومت صنعا کے جنوب میں ہلاک کیا۔ اُن کے الفاظ میں ’’جمہوریہ کا دفاع کرنے کی پاداش میں اُنھیں شہید کر دیا گیا‘‘

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس بات کی تصدیق مرحوم کی سیاسی پارٹی نے کی ہے، ایسے میں جب سماجی میڈیا پر ایک وڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں اُن کی میت دکھائی گئی ہے۔

’جنرل پیپلز کانگریس‘ کے سربراہ، فائقہ السید نے صدر صالح کی ہلاکت کا ذمہ دار حوثی باغیوں کو قرار دیا، جنھوں نے اُنھیں دارالحکومت صنعا کے جنوب میں ہلاک کیا۔ اُن کے الفاظ میں ’’جمہوریہ کا دفاع کرنے کی پاداش میں اُنھیں شہید کر دیا گیا‘‘۔

پچہتر برس کے صالح نے تین دہائیوں تک یمن پر حکمرانی کی، جب 2012ء میں سیاسی تحریک اور دباؤ کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹایا گیا۔ لیکن، در پردہ حلقوں کی حمایت سے وہ اقتدار میں رہے، جس کے لیے اُنھوں نے ایران کے حامی حوثیوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔

دو دِن قبل یہ اتحاد منتشر ہوتا دکھائی دیا، جس کے بعد اُنہیں ہلاک کیا گیا۔ ہفتے کے روز صالح نے حوثی باغیوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی بات کی تھی۔

باغی، جنھوں نے پیر کی صبح اُن کی ہلاکت کا اعلان کیا، ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ سعودی عرب جانے کی کوشش کرتے ہوئے ہلاک کیے گئے۔ باغیوں نے اُن کی موت کو اتحاد سے وفاداری کے فقدان پر ’’تختہ الٹے جانے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔

اس سے قبل موصولہ رپورٹ میں، یمن کے حوثی باغیوں کے خبر رساں نیٹ ورک نے اپنے فوجیوں کے ساتھ ایک ویڈیو دکھاتے ہوئے، سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔

یہ اعلان باغیوں کی تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن، ’مشیرہ‘ میں ایک اینکر نے سابق صدر صالح کے مسلح حامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کیا۔ رپورٹ میں مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی صالح کی موت کی آزاد ذرائع نے تصدیق کی ہے۔

یہ بیان صدر صالح کی جانب سے ہفتے کو ہی ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کے اعلان کے دو دن بعد ہی سامنے آیا ہے، جن کے ساتھ مل کر انھوں نے گزشتہ تین سال تک دارلحکومت پر حکمرانی کی تھی۔

فرانسسی خبر رساں ادرے، ’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ بیان سماجی میڈیا پر ایک ویڈیو کے گردش کرنے کے فوری بعد سامنے آیا، جس میں دکھایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کمبل میں صدر صالح کی لاش پڑی ہے اور ان پر پھول بھی پڑے ہیں، جبکہ لاش کا سر بری طرح زخمی ہے۔

75 برس کے علی صالح نے تین دہائیوں سے زائد یمن پر حکمرانی کی۔ تاہم، 2012ء میں سیاسی بحران کے نتیجے میں انھیں اقتدار سے الگ کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG