رسائی کے لنکس

logo-print

عمران خان کا طورخم کراسنگ 24 گھنٹے کھلی رکھنے کا حکم


پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم کراسنگ سے تجارتی سامان سے لدے کنٹینر گزر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہدایات جاری کی ہیں کہ 6 ماہ کے اندر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے انتظامات یقینی بنائے جائیں.

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ دن رات کام کر کے 6 ماہ کے اندر طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے لیے تمام امور مکمل کر لیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ قدم دونوں برادر ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور عوام کے باہمی رابطے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس معاملہ پر وزیراعظم عمران خان کے احکامات کی روشنی میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب کے زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں بتایا گیا کہ طورخم بارڈر اس وقت ہر قسم کی ترسیل کے لئے 8 سے 10 گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ چھ ماہ کے بعد طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رہے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اس حوالے سے بروقت اقدامات کو یقینی بنائیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت سمیت دیگر آمدورفت طورخم بارڈر سے ہوتی ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی یا امن و امان کی کسی بھی صورت حال میں اسے بند کردیا جاتا ہے، جس سے خاص طور پر علاج معالجے کے لیے پشاور آنے والے افغان شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ تجارتی گاڑیوں کو بھی رات کے اوقات میں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصہ میں بہتری آئی ہے۔ دہشت گردی کے کسی بھی بڑے واقعہ پر الزامات تو عائد کیے جاتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان روابط قائم ہیں۔ حالیہ عرصہ میں افغان مفاہمتی عمل اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کے باعث بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اس وقت طورخم سرحد صبح سے عمومی طور پر مغرب کے وقت تک کھلی رہتی ہے جس کے بعد اسے بند کر دیا جاتا ہے۔ تاہم 24 گھنٹے کھلے رہنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور عام شہریوں کی مشکلات میں کمی آ سکے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG