رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں دو روز کی بارش کے بعد سیلاب کی کیفیت


کراچی میں ٹریفک پولیس کا اہلکار ایک موٹر سائیکل والے کی مدد کر رہا ہے

سندھ بھر میں طوفانی بارشوں کے باعث کئی علاقے پانی میں ڈوب گئے، پانی گھروں میں داخل ہو گیا، متعدد علاقے اور سڑکیں زیر آب آ گئیں۔ صوبائی دارالحکومت کراچی میں رات بھر جاری رہنے والی بارش نے شہر کے مختلف علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا کردی ہے اور بارش میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں جبکہ فوج کو بھی سول انتظامیہ کی مدد کے لئے طلب کر لیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک شہر میں 150 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔ سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاون، ایئرپورٹ، لانڈھی، گلشن حدید اور فیصل بیس پر ریکارڈ کی گئی ہے۔ صوبے کے دیگر اضلاع جن میں ضلع ٹھٹھہ میں 142 ملی میٹر، بدین میں 93، میرپور خاص میں 81 اور صحرائی علاقے تھرپارکر میں بھی 37 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ریسکیو اداروں کے مطابق دو روز میں بارشوں میں کرنٹ لگنے سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی میں شدید بارشوں کے باعث سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ، راشد منہاس روڈ، کورنگی روڈ سمیت دیگر سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، نالے چوک ہونے کے باعث پانی سڑکوں پر جمع ہے جبکہ شاہ فیصل نالے، گجر نالے سمیت دیگر نالوں کے قریب آبادیوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ ادھر ملیر ندی میں شدید طغیانی کے باعث ملیر ایکسپریس ہائی وے اور ندی سے گزرنے والی دوسری سڑکیں احتیاطا ًبند کردی گئی ہیں جبکہ پانی میں پھنسے افراد کو کرین کی مدد سے نکالا گیا ہے۔

شدید بارش کے باعث شہر کے بیشتر حصے رات بھر تاریکی میں ڈوبے رہے اور کئی علاقوں میں گذشتہ 18 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ کراچی کو پانی فراہم کرنے والے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بھی بند ہے جس کے باعث شہر میں کئی کروڑ گیلن پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔

گذشتہ دو روز سے جاری بارش کے باعث شہر کے متعدد کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور بازار عید قریب آنے کے باوجود تقریباً بند رہے اور لوگوں نے گھروں ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ عید قربان کیلئے قائم کی گئی کراچی کی مویشی منڈیوں میں بھی صورتحال انتہائی بری ہے اور بیوپاریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ خریداروں کا رش بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ادھر شدید بارشوں کے باعث صوبے بھر میں ٹرانسپورٹ، ریل اور جہازوں کی آمدو رفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کراچی آنے اور جانے والی کئی ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہیں جبکہ قومی ائیرلائن پی آئی اے نے کراچی سے جانے والی کئی ملکی اور غیر ملکی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شہر میں شدید بارش کے بعد پانی کی نکاسی کا کام بھی جاری ہے۔ متعدد سڑکوں اور چوراہوں پر واٹر پمپس نصب کر کے سڑکوں کو صاف کیا جا رہا ہے۔ ایدھی کے رضا کاروں اور فوج کے جوانوں نے کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء اور مئیر کراچی وسیم اختر نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے شہر میں جاری کاموں کی نگرانی کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کراچی کے بعد ٹھٹھہ بھی پہنچے اور وہاں پر ضلعی انتظامیہ سے پانی کی نکاسی سے متعلق تفصیلات معلوم کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت طوفانی بارش میں متاثر ہونے والے لوگوں کی پر ممکن مدد کر رہی ہے۔

ادھر محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ بارش کا موجود سلسلہ مزید دو روز تک جاری رہے گا۔ اس دوران کراچی کے علاوہ میرپور خاص، حیدرآباد، سجاول، ٹھٹھہ، بدین، مکران ڈویژن، حب اور لسبیلہ میں بھی تیز بارش کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG