رسائی کے لنکس

یونیسکو نے 'تھائی مساج' عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا


فائل فوٹو

کریراتھ چنتراسری آج بہت خوش ہیں اور اپنی خوشی کی وجہ بتاتے ہیں کہ ان کی قدیم ثقافت کو عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے جسے وہ گزشتہ کئی برسوں سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

کریراتھ کی خوشی کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے تعلیم، سائنس اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے جمعرات کو اس روایتی تھائی مساج کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا ہے۔

جنوبی امریکی ملک کولمبیا کے شہر بگوٹا میں ہونے والے اجلاس میں تھائی مساج کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں شریک تھائی لینڈ کے نمائندے نے یونیسکو کے اجلاس کے دوران اسے ثقافتی ورثہ قرار دینے کو تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے اس ورثے کو دنیا بھر میں منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔

مساج کے اس قدیمی طریقے کو ناڈ تھائی بھی کہا جاتا ہے۔ جو نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی کرتی ہیں۔ اس مساج کو غیر سائنسی طبی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

بنکاک کا واٹ فو مندر ہزاروں مقامی اور غیر ملکی باشندوں کو قدیم تھائی مساج ناڈ کی تربیت دینے کے لیے حوالے سے مشہور ہے۔ کریراتھ اس مندر میں مساج سیکھنے کے لیے آنے والوں کی تربیت کرتے ہیں جس کے بعد انہیں سند جاری کی جاتی ہے۔

واٹ فو مندر کے اس اسکول سے مساج سیکھنے والوں کی سند کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد یہ سند حاصل کرتے ہیں اور تھائی لینڈ کے ناڈ مساج کو روزگار کا ذریعہ بھی بنا رہے ہیں۔

ناڈ مساج کی تربیت کے لیے واٹ فو مندر میں دو لاکھ افراد تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ یہاں سے اس مساج کی تربیت حاصل کرنے والے دنیا کے 145 ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

تھائی لینڈ کے مختلف شہروں، ساحلی علاقوں میں ناڈ مساج غیر ملکی سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پانچ ڈالر فی کس ادا کرنے پر ایک گھنٹے کے لیے یہ مساج کیا جاتا ہے۔

اسکول کی ڈائریکٹر پریڈا ٹرینگرونکچر تھائی لینڈ کے بڑے ہوٹلز میں سو ڈالر جبکہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں دو سو سے تین سو ڈالر بھی وصول کیے جاتے ہیں۔

پریڈا ٹرینگرونکچر کے مطابق یہ مساج کمر اور سر کے درد کے خاتمے میں کارآمد سمجھا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر تھائی لینڈ کے مشہور ناڈ مساج کو تسلیم کیے جانے کے بعد واٹ فو مندر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی سند کی اہمیت میں اضافہ ہو گا۔

ناڈ تھائی اسکول کے ایک استاد کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ میں اگر معاشی حالات خراب ہوں تو مزید لوگ اس کام کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں صرف ہاتھ کا ہنر کافی ہوتا ہے۔ مختصر تربیت کے بعد مساج سیکھ کر لوگ پیسے کما سکتے ہیں۔ معذور افراد بھی یہ کام سیکھ کر اپنا روزگار کما سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG