رسائی کے لنکس

خواجہ سراؤں کے لیے ایڈز سے بچاؤ کی مشاورتي نشست


پشاور میں ایڈز سے آگہی کی مشاورتی نشست میں شامل ایک خواجہ سرا اس بارے میں پمفلٹ پڑھ رہا ہے۔ 17 نومبر 2017

اس وقت خیبر پختون خوا میں 2750 ایچ آئی وی کے 2750 مریض رجسٹرڈ ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ تعداد 12000 تک ہو سکتی ہے کیونکہ عموماً لوگ شرم ومعاشرتی رویوں کی وجہ سے ٹیسٹ اور علاج کرانے سے کتراتے ہیں۔

عمر فاروق

خواجہ سراؤں میں ایچ آئی وی ایڈز کے بڑھنے کے وجوہات اور ان کے تدارک، جبکہ حکومت کی طرف سے کی ضروری اقدامات کی کمی کے حوالے سے پشاور پریس کلب میں مشاورتي نشست منعقد ہوئی جس میں خواجہ سراؤں کے نمائندوں، دینی راہنماؤں، سول سوسائٹی اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی۔

خیبر پختونخوا ٹرانس ایکشن کمیٹی کی صدر فرزانہ جان نے اس موقع پر کہا کہ صحت کے حوالے سے خواجہ سراؤں کو لا تعداد مسائل کا سامنا ہے اور حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں سے اب تک کوئی وفا نہ ہو سکا۔

فرزانہ نے کہا کہ ہماری کمیونٹی میں ایک بڑی آبادی ایڈز جیسے مہلک مرض کا شکار ہے، جس کی وجہ غربت کی وجہ سے بطور سیکس ورکر کے کام کرنا ہے، مگر ان میں اس مرض سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر خواجہ سرا خود میں ایچ آئی وی وائرس کی موجود گی کے باوجود غیر محتاط سیکس میں شریک ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی دو گروپوں میں ایچ ائی وی ایڈز کی شرح سب سے زیادہ ہے جس میں ٹیکوں کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد میں ایچ آئی وی کی شرح 2۔27 فیصد ہے جبکہ خواجہ سراؤں میں یہ شرح 2۔5 فیصد تک ہے۔

اس وقت خیبر پختون خوا میں 2750 ایچ آئی وی کے 2750 مریض رجسٹرڈ ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ تعداد 12000 تک ہو سکتی ہے کیونکہ عموماً لوگ شرم ومعاشرتی رویوں کی وجہ سے ٹیسٹ اور علاج کرانے سے کتراتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے خیبر پختون خوا کی صوبائی اسمبلی میں خواجہ سراؤں کو صحت کی بہتر سہولیات کے حوالے صوبائی اسمبلی کی ممبر نگہت یاسمین اورکزئی کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی تھی جس میں خواجہ سراؤں میں ایڈز کی آگہی اور بلا تفریق علاج کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے حکومت سے اقدامات کا کہا گیا تھا۔

معروف مذہبی عالم مفتی جمیل نے اس موقع پر کہا خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے حوالے سے وہ علماء اور مفتیان سے مشاورت کے بعد ایک فتویٰ جاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ انہیں معاشرے میں درپیش مسائل مثلا نکاح اور جنازے کے حوالے سے مشکلات کم ہو۔

مفتی جمیل نے کہا کہ علماء کرام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عوام کو خواجہ سراؤں کے ساتھ امتیازی سلوک سے روکا جائے اور ایڈز کے حوالے سے لوگوں کو خطرات سے آگاہ کرے۔

بلیو وینز ک پروگرام کوارڈی نیٹر نے بتایا کہ خیبر پختون خوا کی سول سوسائٹی اور خواجہ سرا محکمہ صحت اور صوبائی حکومت کے شکر گذار ہیں کہ جنہوں نے صوبہ میں ایچ آئی وی ایڈز کی ٹیسٹنگ اور علاج کے حوالے سے سات نئے مراکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے یہ مراکز ملاکنڈ، مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان اور پشاور میں بنائے جائیں گے۔

خیبر پختون خوا سول سوسائٹی نیٹ ورک کے پروگرام کوارڈی نیٹر تیمور کمال نے کہا کہ صرف سہولیات کی فراہمی سے معاملات بہتر نہیں ہوں گے، یہ حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں آگہی پیدا کرے تاکہ معاشرتی رویوں اور تشدد میں کمی لائی جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG